امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے معاملے میں کافی سخت ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ اسی دوران قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت ڈووال جمعرات 7 اگست کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملے۔ جیسے ہی پوتن نے ڈووال کو دیکھا، وہ تیزی سے آگے بڑھے اور مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا۔ امریکہ پہلے ہی بھارت اور روس کی دوستی سے ناراض ہے اور یہ ملاقات اس کے لیے ایک نیا دردِ سر بن سکتی ہے۔
پوتن اور ڈووال کی یہ ملاقات اسٹریٹیجک لحاظ سے بہت اہم مانی جا رہی ہے۔ ڈووال ملاقات کے لیے کریملن پہنچے، جہاں پوتن نے نہایت گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔ پوتن کے چہرے کی مسکراہٹ صاف ظاہر کر رہی تھی کہ وہ اس ملاقات سے کتنے خوش ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ وہ ٹیرف بڑھا دیں گے۔ امریکہ کو بھارت کے روس سے تیل خریدنے پر اعتراض ہے۔
ٹرمپ کو بھارت-روس کی دوستی سے کیوں ہے مسئلہ؟
امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر اسے بین الاقوامی منڈی میں منافع کے ساتھ بیچ رہا ہے، جس سے روس کو مالی مدد مل رہی ہے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ روس یہ پیسہ یوکرین کے خلاف جنگ میں لگا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی کے نظام الدین علاقے میں اداکارہ ہما قریشی کے بھائی کا قتل
ٹرمپ نے بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی تھی
امریکہ نے پہلے بھارت کو صرف دھمکی دی تھی کہ ٹیرف بڑھایا جائے گا۔ شروع میں 25 فیصد ٹیرف لگایا گیا، لیکن بعد میں اسے دگنا کر دیا گیا۔ اب بھارت پر کل 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی ناراضگی کی ایک وجہ تجارتی معاہدہ بھی ہو سکتی ہے۔ امریکہ بھارت سے زرعی اور ڈیری سیکٹر میں معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن بھارت اس پر راضی نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو