بین الاقوامی

Israel killed 82 Palestinians: روٹی کے انتظار میں کھڑے 38 فلسطینیوں کو ملی موت، اسرائیلی کی تازہ ترین درندگی میں 82 فلسطینی شہید

غزہ میں راتوں رات ہونے والے فضائی حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 82 فلسطینیوں کی شہادت کی اطلاع ملی ہے، جن میں سے 38 افراد انسانی امداد کے حصول کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ غزہ کی وزارت صحت اور ہسپتالوں کے مطابق، پانچ افراد غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) سے منسلک مقامات کے قریب شہید ہوئے، جو کہ ایک نئی امریکی تنظیم ہے جسے اسرائیل کی حمایت حاصل ہے اور وہ غزہ کی آبادی کے لیے خوراک کی فراہمی کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، 33 دیگر افراد غزہ کے مختلف مقامات پر امدادی ٹرکوں کا انتظار کرتے ہوئے شہیدہوئے۔ اسرائیلی فوج نے ان حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ واقعات بدھ کی رات اور جمعرات کی صبح پیش آئے، جن میں بڑے پیمانے پر شہادتیں ہوئیں۔

غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن، جو مئی 2025 میں قائم ہوئی، کو اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے اسے “موت کا جال” قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے امدادی مراکز پر اکثر افراتفری اور تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یہ تنظیم اسرائیل اور امریکہ کی حمایت سے کام کرتی ہے اور اس کا مقصد اقوام متحدہ کے سابقہ امدادی نظام کو تبدیل کرنا ہے، جسے اسرائیل نے حماس کے ذریعے امدادی سامان کی چوری کا الزام لگا کر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیوں نے اس نئے نظام کو غیر عملی، غیر محفوظ اور انسانی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ حماس نے امدادی سامان کی چوری کے الزامات کی تردید کی ہے۔

غزہ میں جاری جنگ، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی، نے علاقے کو تباہ حال کر دیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک 57,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ امدادی مراکز کے قریب ہونے والے یہ واقعات ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ عالمی برادری، بشمول اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ فلسطینی شہریوں نے امداد کے حصول کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی صورتحال پر مایوسی اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

حالیہ ہلاکتوں کے باوجود، اسرائیل اور حماس کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جن کی تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی تھی۔ اسرائیل نے اس معاہدے کے شرائط کو قبول کر لیا ہے، لیکن حماس نے جنگ کے مکمل خاتمے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے، جس سے مذاکرات کی کامیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ عالمی برادری سے جنگ بندی اور انسانی امداد کے محفوظ نظام کے قیام کے لیے فوری مدد مانگ رہے ہیں، کیونکہ موجودہ امدادی نظام ان کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ عالمی امدادی ایجنسیوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قائم کردہ نظام کو بحال کرے تاکہ امداد کی تقسیم محفوظ اور منصفانہ طریقے سے ہو سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

8 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

8 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

9 hours ago