واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے ایران کو پہلے سے بھی بڑے حملے کی دھمکی دی، وہیں اب انہوں نے تہران کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دے کر اپنے مؤقف میں واضح نرمی دکھائی ہے۔ اس اچانک یو ٹرن نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، جبکہ خطے کے ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اپنے خطرناک جنگی بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کو بحرِ ہند میں تعینات کر دیا ہے، جو ایران کے قریب بڑھ رہا ہے۔ اس تعیناتی کو ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ آپریشن کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس دوران پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ جو بھی فیصلہ کریں گے، امریکی فوج اس پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ بات چیت کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس بات چیت کی جگہ، وقت اور طریقہ کار کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ امریکی وفد کی قیادت کون کرے گا۔ ایران سے مذاکرات پر سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا، ”ہاں، میں اس کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔ ہمارے پاس ابھی ایران کے لیے بہت سارے، بہت بڑے، بہت طاقتور جنگی جہاز جا رہے ہیں اور یہ بہت اچھا ہوگا اگر ہمیں ان کا استعمال نہ کرنا پڑے“۔ دوسری جانب ترکیہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک مختلف تجویز پیش کی ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ تیل سے متعلق کوئی معاہدہ کر لینا چاہیے تاکہ حملے جیسی صورتحال سے بچا جا سکے۔ ترکیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی کوئی ضمانت نہیں کہ جنگ کا خطرہ مکمل طور پر ٹل جائے، اس لیے عملی اور معاشی حل کی طرف بڑھنا زیادہ بہتر ہوگا۔ ترکیہ نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
اس سے ایک دن قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ بحرِ ہند میں داخل ہو چکا ہے اور ایران کے قریب اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کے مطابق، یہ بیڑا نہ صرف ممکنہ حملوں میں مدد کے لیے تیار ہے بلکہ ایران کی جانب سے کسی جوابی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ اس خطے میں فضائی دفاعی نظام بھی بھیج رہا ہے، جن میں اضافی پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں شامل ہیں۔ اس کا مقصد وہاں تعینات امریکی افواج کو ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایک یا اس سے زیادہ تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم بھی خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔
ادھر اطلاعات یہ بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں پس پردہ پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ یہ رابطے عمانی سفارتکاروں کے ذریعے ہوئے، جن میں صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان پیغامات شامل تھے۔ ان بات چیت میں امریکی حملے کو روکنے کے لیے ایک ممکنہ ملاقات پر بھی غور کیا جا رہا تھا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ تازہ مؤقف امریکہ کی سخت گیر پالیسی اور سفارتی حکمت عملی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، جنگی جہازوں کی تعیناتی اور دفاعی تیاریوں کے باعث یہ واضح ہے کہ امریکہ دباؤ کی پالیسی بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا بات چیت واقعی کشیدگی کم کر پاتی ہے یا خطہ ایک نئے تنازع کی طرف بڑھتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…