بین الاقوامی

A plan to resettle 1 million people from Gaza in Libya: غزہ کے تقریباً 10 لاکھ لوگوں کو لیبیا میں مستقل طور پر آباد کرنے کا منصوبہ زیرغور، ٹرمپ کا نیا شگوفہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے لیے ایک بڑا منصوبہ تیار کیا ہے، جس پر ان کی انتظامیہ تیز رفتاری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ’این بی سی نیوز‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ پٹی کے تقریباً 10 لاکھ لوگوں کو لیبیا میں مستقل طور پر آباد کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ واضح ہو کہ رپورٹ میں اس منصوبے کا علم رکھنے والے 5 مختلف ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’ٹرمپ انتظامیہ نے اس تجویز کو اتنی سنجیدگی سے لیا کہ اسے لیبیا کی قیادت کے سامنے بھی رکھ دیا گیا۔ اس میں 2 موجودہ افسران اور امریکی انتظامیہ کے ایک سابق افسر بھی شامل تھے، جن کے مطابق یہ بات چیت سفارتی سطح پر ہو چکی ہے۔‘‘

انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے انتہائی متنازعہ تجویز

اس منصوبہ کے تحت اگر لیبیا غزہ کے شہریوں کو اپنے یہاں آباد کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو امریکہ اسے اربوں ڈالر کی مالی امداد فراہم کرے گا۔ یہ وہ فنڈ ہے، جسے واشنگٹن نے ایک دہائی قبل روک دیا تھا اور اسے اب دوبارہ جاری کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تجویز نہ صرف انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے انتہائی متنازعہ ہوگی، بلکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں استحکام کی امیدوں پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ غزہ کے لوگوں کو ان کے آبائی وطن سے ہٹا کر کسی تیسرے ملک میں آباد کرنے کا منصوبہ حساس سیاسی اور اخلاقی سوالات کھڑے کرتے ہیں۔

لیبیا کی رضامندی ابھی واضح نہیں ہے

حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ لیبیا نے اس تجویز پر رضامندی کا اظہار کیا تھا یا نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ اس منصوبہ کے حوالے سے بات چیت سنجیدہ مرحلہ تک پہنچ چکی تھی۔ ایک طرف جہاں لیبیا داخلی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے، ایسی صورت میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو وہاں آباد کرنا ملک کی معاشرتی اور اقتصادی حالات پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ لیبیا کے عوام اور علاقائی رہنماؤں کا اس طرح کی تجویز پر منفی رد عمل آ سکتا ہے۔ بہت سارے ماہرین کا خیال ہے کہ فلسطینی شہریوں کو لیبیا میں جبراً آباد کرنا نہ کوئی منصفانہ عمل ہے اور نہ ہی سفارت کاری کی کوئی اعلیٰ مثال ہے۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی اپنی اسرائیل نواز پالیسی اور فلسطینی مسائل پر جارحانہ موقف اختیار کرنے کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہی ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر درجہ دینے اور مغربی کنارے کی بستیوں پر نرم رویہ اختیار کرنے جیسے فیصلوں کی وجہ سے ہی انہیں عرب دنیا میں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ واضح ہو کہ غزہ کے لوگوں کی نقل مکانی کا یہ خفیہ منصوبہ اگر نافذ کیا گیا تو نہ صرف انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی، بلکہ اس سے امریکہ کا عالمی امیج اور مشرق وسطیٰ میں اس کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bihar MLC Election: پی کے کی انٹری اور اننت سنگھ کی بغاوت، بہار قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں پر انتخابات سے پہلے سیاسی ہلچل تیز

پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…

7 minutes ago

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

57 minutes ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

1 hour ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

2 hours ago