بین الاقوامی

Gaza Under Attack: ملبے تلے دبی فلسطینی خاتون کی ہاتھ بڑھا کر مدد کے لیے فریاد،مرنے والوں میں نصف خواتین اور بچے

Gaza Under Attack:  غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر وحشیانہ بمباری سے ہونے والی تباہی کے قیامت خیز مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں ایک تازہ واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا جس میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دبی زندہ خاتون کو ہاتھ بڑھا کر مدد کی فریاد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری سے اموات اور زخمیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

غزہ میں ہونے والی تباہی اور بربادی کے خوفناک مناظر سے سوشل میڈیا  پر بے شمار ہیں ۔

انہی مناظرمیں ملبے کے نیچے دبی ایک خاتون کو مدد کے لیے ہاتھ بڑھا کر اشارہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاتون کے ہاتھ کی  یہ تصویر سامنے آنے کے بعد امدادی کارکنوں نے اسے بچانے کے لیے ہرممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ سوشل میڈیا پر وائرل کلپ میں امدادی کارکنوں کو خاتون کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ ٹارچ پر رکھے تا کہ بچانے والے اسے دیکھ سکیں۔

اس کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے امدادی کارکن نے مزید کہا کہ “فکر نہ کریں، اپنے آپ کو مضبوط رکھیں۔ امدادی کارکن  مصروف ہیں۔ جلد ہی آپ کو نکال لیں گے”۔

اگرچہ یہ واضح طور پر معلوم نہیں ہے کہ یہ کلپ کب اور کہاں ریکارڈ کیا گیا۔ غزہ کی پٹی کے کئی محلوں کو گذشتہ دنوں شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جن میں الرمال ، جبالیہ کیمپ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

مرنے والوں میں نصف خواتین اور بچے

یہ وااقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہونے والی اموات میں سے نصف کے قریب خواتین اور بچے ہیں۔ وزارت صحت نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 447 بچے مارے گئے۔ وزارت صحت نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان میں کہا کہ 248 خواتین اور 447 بچے غزہ پر اسرائیلی بمباری میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اس جنگ کے آغاز سے اب تک فلسطینی شہداء کی تعداد 1,448 ہو گئی ہے، جن میں غزہ کی پٹی میں 1417 اور مغربی کنارے میں 31 فلسطینی شہید ہوئے۔

غزہ کی پٹی میں الشفاء اسپتال کے ریفریجریٹرز لاشوں سے بھر گئے ہیں جس کے بعد مزید فلسطینیوں کی لاشیں رکھنے کی گنجائش نہیں بچی۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مارے فلسطینیوں کے خون میں لت پت لاشوں کو ہسپتال کے باہر باہر فٹ پاتھ پر ڈھیرکیا جا رہا ہے۔

بشکریہ :alarabiya

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں مثال

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچنل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

3 minutes ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

45 minutes ago

Drone Attacks on Protesters in PoK: پی او کے میں مظاہرین پر فائرنگ اور ڈرون حملوں کا الزام، 7 افراد ہلاک، 18 زخمی

پاکستانی سکیورٹی فورسز پر راولاکوٹ میں پُرامن مظاہرین اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا…

55 minutes ago

The revolution of 1857: ملک کی تحریک آزادی اور 1857 کو بغاوت کہنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی، یہ آزادی کی پہلی جنگ تھی: امت شاہ

نائب سنگھ سینی نے امت شاہ کی تنظیمی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: پیدائش سے  معذور بچوں کے لیے پنشن کی راہ ہموار، رقم میں بھی اضافہ کیا: وزیر اعظم مودی

گزشتہ ماہ حکومت نے وزیر اعظم دیویانگ جن پنشن اسکیم کے تحت معذور افراد کے…

1 hour ago