اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے پیرکی شام کو خبردارکیا کہ غزہ میں “لوگوں کو زندہ رکھنے والے آخری سہارے” منہدم ہو رہے ہیں اوریہ کہ غذائیت کی قلت کے شکاربچوں اوربڑوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات ملی ہیں۔ ابو سلمیہ نے صحافیوں کو بتایا، غزہ کے باقی فعال اسپتالوں میں غذائیت کی قلت اورفاقوں کے نئے کیسز”ہرلمحے” پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، “ہم غزہ کے لوگوں میں فاقوں کے باعث ہونے والی اموات کی خطرناک تعداد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
اسرائیل کی ناکہ بندی جاری
اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے علاقے کے 20 لاکھ سے زیادہ باشندوں کو اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بدترین قلت کا سامنا ہے۔ جولائی کے اوائل میں غزہ شہر کا دورہ کرنے والے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے اس صورتِ حال کو”خراب ترین” قراردیا، جوانہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔ گزشتہ اتوارکوغزہ کی شہری دفاع کی ایجنسی نے اطلاع دی کہ گذشتہ ہفتے میں کم ازکم تین شیرخوار”شدید بھوک اور غذائیت کی قلت” سے جاں بحق ہو گئے۔ پیرکواسرائیلی اتحادیوں برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اورکینیڈا سمیت دودرجن سے زائد ممالک نے جنگ کے فوری خاتمے، قیدیوں کی رہائی اورامداد کی بلاتعطل روانی پرزوردیا۔
غزہ کی وزارت صحت نے بتائی جاں بحق ہونے والوں کی تعداد