بین الاقوامی

21 Children died of malnutrition and starvation in Gaza in 72 hours: غزہ میں 72 گھنٹوں میں غذائیت کی قلت اور فاقوں سے 21 بچے ہلاک ہوگئے، اقوام متحدہ نے کیا تشویش کا اظہار

غزہ شہر کے الشفاء اسپتال کے سربراہ نے منگل کے روزبتایا کہ فلسطینی سرزمین پرگزشتہ تین دنوں میں 21 بچے غذائیت کی قلت اورفاقوں کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔ محمد ابوسلمیہ نے نامہ نگاروں کوبتایا، “یہ اموات غزہ کے اسپتالوں میں ریکارڈ کی گئیں، جن میں غزہ سٹی کا الشفا اسپتال، دیرالبلح کا شہدائے الاقصیٰ اسپتال اورخان یونس کا ناصراسپتال شامل ہیں۔”

اقوام متحدہ نے کیا خبردار

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے پیرکی شام کو خبردارکیا کہ غزہ میں “لوگوں کو زندہ رکھنے والے آخری سہارے” منہدم ہو رہے ہیں اوریہ کہ غذائیت کی قلت کے شکاربچوں اوربڑوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات ملی ہیں۔ ابو سلمیہ نے صحافیوں کو بتایا، غزہ کے باقی فعال اسپتالوں میں غذائیت کی قلت اورفاقوں کے نئے کیسز”ہرلمحے” پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، “ہم غزہ کے لوگوں میں فاقوں کے باعث ہونے والی اموات کی خطرناک تعداد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”

اسرائیل کی ناکہ بندی جاری

اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے علاقے کے 20 لاکھ سے زیادہ باشندوں کو اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بدترین قلت کا سامنا ہے۔ جولائی کے اوائل میں غزہ شہر کا دورہ کرنے والے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے اس صورتِ حال کو”خراب ترین” قراردیا، جوانہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔ گزشتہ اتوارکوغزہ کی شہری دفاع کی ایجنسی نے اطلاع دی کہ گذشتہ ہفتے میں کم ازکم تین شیرخوار”شدید بھوک اور غذائیت کی قلت” سے جاں بحق ہو گئے۔  پیرکواسرائیلی اتحادیوں برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اورکینیڈا سمیت دودرجن سے زائد ممالک نے جنگ کے فوری خاتمے، قیدیوں کی رہائی اورامداد کی بلاتعطل روانی پرزوردیا۔

غزہ کی وزارت صحت نے  بتائی جاں بحق ہونے والوں کی تعداد

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک کم از کم 101 فلسطینی بھوک اور قحط کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں سے 80 کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم بھوک سے ہونے والی ان ہلاکتوں میں سے زیادہ حالیہ ہفتوں کے دوران ہوئی ہیں۔ اسرائیل نے ناکہ بندی کر کے امدادی تنظیموں اور غزہ میں خوراک تقسیم کرنے والی تنظیموں کی رسائی روک رکھی ہے اوراب صرف اسرائیلی فوج اپنی نگرانی میں اپنی پسندیدہ تنظیم سے امداد تقسیم کرنے کا دعویٰ رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ نے منگل کے روز کہا کہ اس کے اپنے عملے کے ارکان ڈاکٹراورانسانی بنیادوں پر کام کرنے والے کارکن بھی کام کی زیادتی اور بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہوجاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہر طرف بھوک و قحط کا راج ہے۔

بشکریہ العربیہ اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

5 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

6 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

6 hours ago