نئی دہلی :ایران میں جاری کشیدگی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 165 بچیاں بھی شامل ہیں۔ تہران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فواد ایزدی نے ان مشترکہ حملوں کو “غیر قانونی” اور “غیر ضروری جنگ” قرار دیا ہے۔فواد ایزدی کے مطابق ان حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی طرح امریکہ کے لیے خطرہ نہیں تھا، اس کے باوجود اس پر حملہ کیا گیا، جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی اسرائیل کے دباؤ پر کی گئی، جو خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل امریکی فوجی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک بشمول بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا مقصد ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جیسا کہ 1953 کی بغاوت کے دوران کیا گیا تھا۔
ایرانی پروفیسر کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ جائز عسکری اہداف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تیل کی تنصیبات کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنایا جب تک اس کی اپنی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق آئل ریفائنری عام طور پر فوجی ہدف نہیں ہوتیں، لیکن جب ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
فواد ایزدی نے خبردار کیا کہ یہ تنازع صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور سیاسی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا بھر کے لیے تشویش کا باعث ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
ہندوستانی ٹیم نے زمبابوے کو 121 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی ون…
وزیر اعظم نریندر مودی کے اوڈیشہ دورے کے دوران بھونیشور میں جشن کا ماحول رہا۔…
سیاسی بیان بازی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کے آنجہانی والد دامودر داس مول…
ہندوستان کی اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو کو سپر 750 ٹورنامنٹ کے فائنل میں…
ہائی کورٹ کی سختی کے بعد میڈیکو لیگل اور پوسٹ مارٹم رپورٹس اب سی سی…
ایم ایس دھونی نے آئی پی ایل 2027 میں کھیلنے کے بارے میں اہم بیان…