انٹرٹینمنٹ

Udaipur Files Case: ادے پورفائلزکے فلم پروڈیوسرنے سپریم کورٹ میں داخل کی پٹیشن، مولانا ارشد مدنی کو بنایا فریق اول، جانئے پورا معاملہ

نئی دہلی: فلم ادے فائلزکی ریلیزپردہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ اسٹے لگائے جانے کے بعد فلم پروڈیوسرنے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ فلم پروڈیوسرنے جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی کوفریق اول بنایا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی دورکنی بینچ اس پٹیشن کی کل 16جولائی کوسماعت کرے گی۔ گذشتہ کل فلم پروڈیوسرکے وکیل سینئرایڈوکیٹ گوروبھاٹیا کی درخواست پرجسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پرجلد سماعت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مولانا ارشد مدنی نے بھی سپریم کورٹ میں گزشتہ شب ہی کیویٹ داخل کردیا تھا یعنی کہ اب مقدمہ کی سماعت  کے دوران مولانا ارشد مدنی کے وکیل سینئرایڈوکیٹ کپل سبل بھی پیش ہوکربحث کریں گے۔

فلم پروڈوسیرکی طرف سے دی گئی تھی یہ دلیل

فلم پروڈیوسر کی قیادت کررہے ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا نے سپریم کورٹ کے جج سے کہا کہ فلم 12 جولائی کو ریلیز ہونی تھی۔ اس کے لئے سبھی تھیئیٹرس بُک کرلئے گئے ہیں، سبھی تھیئیٹرمالک انتظارکررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ کیس فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ معاملے کی سماعت جلد ہوگی۔  عرضی پر جسٹس سوریہ کانت نے پوچھا کہ ریلیزپرروک لگا دی گئی ہے؟ اس پرایڈوکیٹ گوروبھاٹیا نے ترک دیا، ”فلم 11 جولائی کوریلیزہونی تھی۔ ایک دن پہلے رات 8 بجے ریلیز پرروک لگانے کا حکم دیا گیا۔‘‘

دورکنی بینچ کرے گی معاملے کی سماعت

جسٹس سوریہ نے پوچھا کہ کیا فلم کوریلیزکرنے کی اجازت ہے۔ اس پرگوروبھاٹیا نے کہا کہ انہیں سینسربورڈ نے فلم پاس کردی ہے۔ ہمارے پاس سرٹیفکیٹ ہے اورسبھی سنیما گھربُک تھے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا فلم سچی حادثے پرمبنی ہے، جومعاملہ اب بھی جاری ہے۔ اس پرگورو بھاٹیا نے کہا کہ ادے پورفائلزوہ فلم ہے، جس میں ایک شخص کا سرقلم کردیا گیا۔ مجھے پوری ذمہ داری کے ساتھ کہنا ہوگا کہ یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت سے انکارکردیا تھا، لیکن دہلی ہائی کورٹ نے مداخلت کرکے ریلیزپرروک لگا دی۔ معاملے کو سمجھنے کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کو لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس پرایڈوکیٹ بھاٹیا نے معاملے کی سماعت آج کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن عدالت نے انہیں بدھ یا کسی دوسرے دن سماعت کے احکامات دے دیئے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

فلم ادے پورفائلز12 جولائی کوریلیزہونی تھی۔ یہ فلم ٹیلرکنہیا لال کے قتل پربنی ہے، جس کا راجستھان کے ادے پور میں مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے قتل کردیا تھا۔ قتل کے 11 ملزم جیل میں ہیں اور ٹرائل جاری ہے۔ فلم ادے پور فائلز کا ٹریلرجاری ہونے کے بعد فلم تنازعہ سے گھرگئی۔ فلم ریلیز کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے صدراور دارالعلوم دیوبند کے استاد مولانا سید ارشد مدنی کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ فلم میں ایسے ڈائیلاگ اورسین ہیں، جس سے فرقہ وارانہ تشدد بھڑک سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کنہیا لال قتل انحہ کے آٹھویں ملزم محمد جاوید نے سپریم کورٹ میں فلم ریلیزپرروک لگانے کی عرضی داخل کی تھی۔ عرضی میں سماعت مکمل ہونے تک فلم کی ریلیزپرروک لگانے کا مطالبہ کیا گیا اورترک دیا گیا تھا کہ اس کی ریلیز سے فیئر ٹرائل کے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ حالانکہ عدالت نے محمد جاوید کی عرضی خارج کردی تھی۔

دہلی ہائی کورٹ نے لگائی تھی روک

دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت 11 جولائی کوہوئی۔ جسٹس ڈی کے اپادھیائے اورجسٹس انیش دیال کی بینچ نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سمیت تین عرضیوں پرسماعت کرتے ہوئے فلم کی ریلیزپرعبوری روک لگا دی۔ اس معاملے پراب فلم میکرس نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو–

Nisar Ahmad

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

6 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

6 hours ago