ممبئی: دہلی میں طلبہ کے جنتر منتر تک مارچ کے دوران ان کے خلاف مبینہ طور پر طاقت کے استعمال کی خبروں کے درمیان بالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات نے طلبا کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔ اداکارہ پوجا بھٹ، سوناکشی سنہا، ادیتی راؤ حیدری، جنیلیا دیشمکھ سمیت کئی فنکاروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے طلبا کی بات سنے جانے اور ان کے خدشات دور کرنے کی اپیل کی ہے۔ پوجا بھٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا، ’’جب پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے طلبہ کے خلاف آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کرتے ہیں تو یہ حکومت کی جانب سے خود کو بچانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس تشدد کو ’قانون و انتظام‘ جیسے الفاظ کے پیچھے چھپا کر درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ احتجاج کی آواز کو دبانے سے اقتدار میں موجود لوگوں کی طاقت محفوظ رہتی ہے۔‘‘
سب سے پہلے انسانیت کو اہمیت دی جانی چاہیے
اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا، ’’20 جولائی… بہت سے لوگوں کی ہڈیاں ٹوٹیں اور ایک پورے ملک کا دل ٹوٹ گیا۔ اسے یاد رکھنا۔‘‘ ادیتی راؤ حیدری نے اس پورے واقعے پر ایک تفصیلی نوٹ شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’کسی کی بھی سیاسی سوچ مختلف ہو سکتی ہے، لیکن سب سے پہلے انسانیت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ ہمیں اپنے بہادر طلبہ اور اپنی بات رکھنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کے لیے احترام، وقار اور حساسیت سے بھرپور ایک محفوظ ماحول یقینی بنانا چاہیے۔ ایک دوسرے کی بات سننا ہی بامعنی ترقی کی بنیاد ہے۔ ہمارے طلبہ ہی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔‘‘ اداکارہ جنیلیا دیشمکھ نے بھی طلبا کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا ’’ہم اپنے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کی آواز بغیر کسی خوف کے، واضح اور مضبوطی سے سنی جانی چاہیے۔ نوجوان ہماری جمہوریت کی دھڑکن اور ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں۔ آئیے، ان کی بات سنیں، ان کا ساتھ دیں اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے بااختیار بنائیں۔ ہمارے نوجوانوں کی توانائی، حوصلہ اور خواب ہی اس بھارت کی تعمیر کریں گے، جس کا ہم تصور کرتے ہیں۔ جے ہند۔‘‘
نیٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج
بتایا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر آنسو گیس کا استعمال کیا۔ احتجاج میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ یہ احتجاج میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کے خلاف کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔ اسی دوران سماجی کارکن سونم وانگچک اپنا غیر معینہ مدت کا بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے تھے۔ بعد میں دہلی پولیس نے انہیں صفدرجنگ اسپتال پہنچایا، جہاں انہیں داخل کر لیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…