انٹرٹینمنٹ

Netflix censorship controversy: ’اے‘ ریٹنگ کے باوجود فلم پر چلی قینچی، نیٹ فلکس پر ’سینسرڈ‘ ورژن دیکھ کر بھڑک اٹھے مداح

رنویئر سنگھ اور اکشے کھنّا کی مچ اویٹڈ فلم ’دھرندر‘ آخرکار 30 جنوری کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہو گئی ہے۔ باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کرنے والی اس اسپائی تھرلر کو لے کر شائقین میں زبردست جوش پایا جاتا تھا۔ لوگ بے چینی سے اس کی او ٹی ٹی ریلیز کا انتظار کر رہے تھے تاکہ گھر بیٹھے اس ہائی آکٹین ڈرامے سے لطف اٹھا سکیں، لیکن جیسے ہی فلم اسٹریمنگ پر آئی، مداحوں کی خوشی اچانک غصے میں بدل گئی۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم سے متعلق سوشل میڈیا پر میکرز اور نیٹ فلکس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا؟ آئیے جانتے ہیں پورا معاملہ۔

مداح کیوں بھڑک گئے؟

دراصل ناظرین کی ناراضگی کی سب سے بڑی وجہ فلم میں کی گئی زبردست کٹوتی (سینسرشپ) ہے۔ رپورٹس کے مطابق او ٹی ٹی پر ریلیز سے پہلے ’دھرندر‘ کو سنسر بورڈ کے عمل سے گزارا گیا، جہاں اسے ’اے‘ سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ شائقین کو امید تھی کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر انہیں فلم کا ان کٹ اور اوریجنل ورژن دیکھنے کو ملے گا، جیسا کہ اکثر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی لوگوں نے فلم دیکھنا شروع کی، انہیں احساس ہوا کہ فلم کے کئی بولڈ ڈائیلاگز اور گالیوں کو میوٹ کر دیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فلم کی کل مدت میں سے تقریباً 10 منٹ کے مناظر غائب ہیں۔

“کیا ہم 5 سال کے بچے ہیں؟”

اس سنسرشپ سے متعلق سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچ گیا ہے۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ جب فلم کو پہلے ہی ’ایڈلٹ ریٹنگ‘ مل چکی ہے تو پھر اس میں اس قدر کٹوتی کا کیا مطلب؟ ایک ناراض صارف نے نیٹ فلکس پر طنز کرتے ہوئے لکھا،“اے سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد بھی آپ نے الفاظ میوٹ کر دیے؟ کیا ہم آپ کو 5 سال کے بچے لگتے ہیں؟ اس ایپ کو استعمال کرنے والا ہر شخص 18 سال سے اوپر کا ہے۔ اتنے زیادہ کٹس لگا کر آپ نے فلم کی پوری وائب خراب کر دی۔”

’را‘ اور ’ریئل‘ فیل کا جنازہ نکل گیا

آدتیہ دھر کی فلمیں اپنی را، حقیقت پسندانہ اور شدید کہانی کہنے کے انداز کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ایسے میں شائقین کا ماننا ہے کہ ان غیر ضروری کٹس کی وجہ سے فلم کا اصل اثر مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ کئی صارفین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایسی کٹی پھٹی فلم دیکھنے سے بہتر ہے کہ اسے دیکھا ہی نہ جائے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ’دھرندر‘ کو ہندی کے ساتھ ساتھ تمل اور تیلگو زبانوں میں بھی نیٹ فلکس پر اسٹریم کیا گیا ہے، لیکن ہر زبان میں تنازع کی وجہ ایک ہی ہے—مناظر کا غائب ہونا اور ڈائیلاگز کا میوٹ ہونا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا میکرز اور نیٹ فلکس شائقین کے غصے اور مطالبات پر توجہ دیتے ہیں یا فلم اسی ایڈیٹڈ ورژن کے ساتھ چلتی رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

44 minutes ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

2 hours ago

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

10 hours ago