نئی دہلی :بالی ووڈ اداکار راجپال یادو عبوری ضمانت پر رہائی کے بعد جیل کے نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قیدیوں کے لیے اسموکنگ ایریا قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تقریباً 11 دن تہاڑ جیل میں گزارنے کے بعد اپنے آبائی گاؤں میں نیوز ایجنسی پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیل میں قیام کے دوران انہیں قیدیوں کی مشکلات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ راجپال یادو نے کہا کہ وہ سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے کی کئی بار کوشش کر چکے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ جس طرح ریلوے اسٹیشن اور ایئرپورٹس پر مخصوص اسموکنگ زون بنائے جاتے ہیں، اسی طرح جیلوں میں بھی قیدیوں کے لیے علیحدہ اسموکنگ ایریا ہونا چاہیے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمباکو نوشی کی حمایت نہیں کر رہے، بلکہ صرف بہتر انتظام کی بات کر رہے ہیں، کیونکہ ملک میں تمباکو مصنوعات قانونی طور پر فروخت ہوتی ہیں۔
جیل صرف سزا نہیں بلکہ اصلاح کا مرکز ہونا چاہیے
اداکار نے جیل کے نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قید خانوں کو صرف سزا دینے کی جگہ نہیں بلکہ اصلاحی مراکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق قیدیوں کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کا مناسب موقع ملنا ضروری ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ راجپال یادو نے مزید کہا کہ جو افراد اپنی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، ان کے خلاف قانون کی سختی برقرار رہنی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اصلاح اور نظم و ضبط دونوں کا توازن جیل نظام کو مؤثر بنا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ راجپال یادو کو ایک مالیاتی معاملے میں جیل جانا پڑا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے سال 2010 میں ایک کاروباری شخص سے قرض لیا تھا، جس کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث ان کے متعدد چیک باؤنس ہو گئے۔ شکایت درج ہونے کے بعد جب رقم کا انتظام نہ ہو سکا تو اداکار نے عدالت کے حکم پر خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا، جس کے بعد وہ تہاڑ جیل میں قید رہے اور بعد ازاں عبوری ضمانت پر رہا ہوئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…
سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…
وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…
سرائے بنجارہ اسٹیشن کے قریب پیش آیا واقعہ، تین ڈبے بری طرح متاثر اور چوتھے…
نشی کانت دوبے نے اپنے بیان میں جواہرلال نہرو کی پالیسیوں پربھی سنگین سوال اٹھائے۔…
’نوٹس‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سماجی موضوع اور ارون گوول و دیپیکا…