عظیم بانسری نواز اور موسیقار پنّنالال گھوش ، جنہیں ہندوستانی کلاسیکی بانسری کا بانی اور رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ انہی کی بدولت بانسری صرف لوک دھنوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں ایک باوقار سولو ساز کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔
موسیقی سے وابستہ خاندان میں پیدائش
پنّنالال گھوش 24 جولائی 1911 کو اس وقت کی بنگال پریزیڈنسی کے شہر باریسال (موجودہ بنگلہ دیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام امل جیوتی گھوش تھا، تاہم دنیا انہیں پنّنالال گھوش کے نام سے جانتی ہے۔ ان کے والد اکشے کمار گھوش معروف ستار نواز تھے، اس لیے بچپن ہی سے انہیں موسیقی کا ماحول میسر آیا، جس نے ان کی فنی زندگی کی بنیاد رکھی۔
بانسری کو کلاسیکی موسیقی کا وقار دلایا
ابتدا میں انہوں نے ستار کی تعلیم حاصل کی، لیکن بانسری کی دلکش آواز نے انہیں اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ اس دور میں بانسری کو صرف ایک لوک ساز سمجھا جاتا تھا اور اسے کلاسیکی موسیقی کے لیے موزوں نہیں مانا جاتا تھا۔ پنّنالال گھوش نے اس تصور کو بدلنے کا فیصلہ کیا اور بانسری کی ساخت، لمبائی اور سروں کی صلاحیت پر مسلسل تجربات کیے۔انہوں نے محسوس کیا کہ چھوٹی بانسری سے کلاسیکی موسیقی کے گہرے اور باریک سروں کو مکمل انداز میں پیش کرنا ممکن نہیں۔ اسی لیے انہوں نے لمبی بانسری تیار کی، جس سے زیادہ گہرے، مدھر اور پختہ سُر حاصل ہونے لگے۔ انہوں نے بانسری میں اضافی سوراخ بھی شامل کیے، جس سے مشکل راگوں اور میند جیسی باریکیوں کو بجانا ممکن ہو گیا۔ ان کی یہ جدتیں ہندوستانی بانسری نوازی میں ایک انقلاب ثابت ہوئیں۔
موسیقار اور فلمی دھنوں کے خالق
پنّنالال گھوش صرف بانسری نواز ہی نہیں بلکہ ایک باصلاحیت موسیقار بھی تھے۔ انہوں نے کئی نئے راگ تخلیق کیے، جن میں “دیپاولی” اور “نوپور دھونی” نمایاں ہیں۔ انہوں نے ہندی فلموں کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی اور 1940 میں ریلیز ہونے والی فلم “سنیہ بندھن” میں آزاد موسیقار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
موسیقی کے فروغ میں نمایاں کردار
انہوں نے آل انڈیا ریڈیو (آکاش وانی) سے وابستہ ہو کر ہندوستانی موسیقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے آرکسٹرا کے لیے موسیقی ترتیب دی اور نوجوان فنکاروں کی تربیت و رہنمائی بھی کی، جس سے کلاسیکی موسیقی کی نئی نسل کو ایک مضبوط بنیاد ملی۔
آج بھی زندہ ہے ان کی موسیقی کی وراثت
20 اپریل 1960 کو پنّنالال گھوش اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی موسیقی اور ان کے تجربات آج بھی زندہ ہیں۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کے بانسری نوازوں کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ آج ہندوستانی کلاسیکی بانسری کو جو عالمی شناخت حاصل ہے، اس میں پنّنالال گھوش کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ عظیم بانسری نواز پنڈت ہری پرساد چورسیا سمیت کئی نامور فنکار اسی مضبوط بنیاد پر اپنی فنی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…