نئی دہلی : ہندی سنیما کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے ہوتے ہیں جن کی اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت، اندازِ زندگی اور پسند بھی مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک عظیم اداکارہ تھیں مینا کماری، جنہیں ان کی جذبات سے بھرپور اداکاری اور درد بھرے کرداروں کی وجہ سے “ٹریجڈی کوئین” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں، پراثر مکالمے اور جذبات کی بھرپور ترجمانی آج بھی فلمی شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ رکھتی ہے۔ ان کی زندگی میں کئی رنگ آئے، مگر ایک رنگ ایسا تھا جو ان کی شخصیت کی مستقل پہچان بن گیا، اور وہ تھا سفید رنگ۔کہا جاتا ہے کہ مینا کماری کو نہ سرخ رنگ پسند تھا، نہ سبز اور نہ ہی کوئی شوخ رنگ۔ انہیں صرف سفید رنگ سے خاص لگاؤ تھا۔ سفید لباس، خصوصاً سفید ساڑھی، ان کی سادگی، وقار اور پرسکون طبیعت کی علامت بن گئی تھی۔ ان کی بیشتر تصاویر میں وہ سفید لباس میں نظر آتی ہیں، جس نے ان کی منفرد شناخت قائم کی۔مینا کماری یکم اگست 1933 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام مہجبین بانو تھا۔ ان کے والد علی بخش تھیٹر سے وابستہ تھے، جبکہ والدہ اقبال بیگم بھی فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ خاندان کی مالی حالت مستحکم نہ ہونے کے باعث انہیں کم عمری میں ہی کام کرنا پڑا۔ اگرچہ انہیں تعلیم حاصل کرنا اور کھیلنا پسند تھا، لیکن حالات نے انہیں فلمی دنیا کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا۔
صرف چار برس کی عمر میں، 1939 میں، انہوں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ابتدائی دنوں میں وہ “بے بی مینا” کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر فلمی دنیا میں منفرد مقام حاصل کیا اور ہندی سنیما کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔اپنے طویل فلمی سفر میں مینا کماری نے 90 سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔ فلم “بیجو باورا” نے انہیں زبردست شہرت دلائی، جس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پرینیتا”، “صاحب بی بی اور غلام”، “آرتی”، “دل ایک مندر”، “کاجل”، “پھول اور پتھر” اور “پاکیزہ” جیسی فلموں میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا اور وہ ہندوستانی سنیما کی عظیم ترین اداکاراؤں میں شامل ہو گئیں۔
اداکاری کے ساتھ ساتھ مینا کماری ایک بہترین شاعرہ بھی تھیں۔ وہ اردو میں شاعری کرتی تھیں اور ان کے اشعار میں تنہائی، محبت، درد اور زندگی کے مختلف تجربات کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ سفید رنگ سے ان کی محبت ان کی شاعرانہ اور حساس شخصیت کی بھی عکاسی کرتی تھی، اسی لیے وہ اکثر تقریبات اور عوامی مواقع پر سفید ساڑھی میں دکھائی دیتی تھیں۔ آج بھی ان کی سفید ساڑھی والی تصاویر مداحوں میں بے حد مقبول ہیں۔اپنی غیر معمولی اداکاری کے اعتراف میں مینا کماری کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ انہوں نے بہترین اداکارہ کے زمرے میں چار فلم فیئر ایوارڈز اپنے نام کیے، جن میں “بیجو باورا”، “پرینیتا”، “صاحب بی بی اور غلام” اور “کاجل” شامل ہیں۔مینا کماری کی ذاتی زندگی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی۔ فلم ساز کمال امروہی سے ان کی شادی، ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والی دوریاں اور مسلسل خراب ہوتی صحت ان کی زندگی کے اہم باب رہے۔ 1960 کی دہائی کے اواخر میں وہ جگر کے عارضے (لیور سیروسس) میں مبتلا ہو گئیں۔ بالآخر 31 مارچ 1972 کو صرف 38 برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر اپنی لازوال اداکاری، شاعری اور سادگی کے باعث آج بھی کروڑوں مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
کیون رڈ نے کہا - ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے…
17 اکتوبر کو جب سرسید احمد خاں کو یاد کیا جائے تو ان کے اس…
گروگرام کے مہارانا پرتاپ سُورن جینتی اُدیان، یعنی لیزر ویلی گراؤنڈ میں 7 اکتوبر کو…
ملک بھر میں جاری ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت 7 اکتوبر کو ہریانہ کے گروگرام…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو نظام کے ذریعے مویشی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت جموں و کشمیر سے…