ممبئی کے ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی نے اداکارہ کی حمایت کرتے ہوئے بی ایم سی کے سابقہ اقدام پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیا مرزا نے ممبئی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو کم کرنے کے لیے لوگوں سے اپیل کی تھی۔ اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ ایسے میں تنازع پیدا ہونے کے بعد صرف ان کی ویڈیو ہٹانا درست نہیں تھا۔
سنجے گھاڑی نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’بی ایم سی نے یہ مہم بامبے ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد شروع کی تھی۔ عدالت نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ آلودگی اور پٹاخوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے مشہور شخصیات کی مدد لے۔ اس مقصد کے لیے فنکاروں سے بغیر کسی معاوضے کے ویڈیوز بنوائی گئی تھیں۔ اس مہم میں دیا مرزا کے علاوہ مادھوری دکشت، کرکٹر اجنکیا رہانے اور مراٹھی اداکارہ نشی گندھا واڈ بھی شامل تھیں۔ ان سبھی نے لوگوں سے پٹاخوں کے سبب ہونے والی فضائی اور صوتی آلودگی کو کم کرنے کی اپیل کی تھی۔‘‘سنجے گھاڑی نے مزید کہا، ’’دیا مرزا نے بھی دیگر فنکاروں کی طرح لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پُرسکون انداز میں دیوالی منائیں اور پٹاخے نہ جلائیں۔ اس کے باوجود تنازع کے بعد بی ایم سی نے صرف دیا مرزا کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہٹا دی، جبکہ دیگر فنکاروں کی ویڈیوز موجود رہیں۔ یہ فیصلہ انتہائی غلط تھا۔ دیا کی ویڈیو بھی دیگر فنکاروں کی ویڈیوز کی طرح موجود رہنی چاہیے تھی۔‘‘
ڈپٹی میئر نے اداکارہ کی خدمات کا ذکر کیا
ڈپٹی میئر نے اداکارہ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’دیا مرزا نے حسن کے مقابلے میں خطاب جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ وہ ماحولیاتی مسائل پر بھی مسلسل اپنی بات رکھتی رہی ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومت نے بھی انہیں برانڈ ایمبیسڈر کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ایسے میں کسی اداکارہ کی توہین کرنا درست نہیں ہے۔ اگر سماجی مسائل کے لیے آگے آنے والے فنکاروں کو اس طرح کے تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا تو مستقبل میں دیگر مشہور شخصیات بی ایم سی کی بیداری مہموں کا حصہ بننے کے لیے کیسے تیار ہوں گی؟ میں اس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کا شکر گزار ہوں۔‘‘
بی جے پی لیڈر کے اعتراض کے بعد ویڈیو ہٹائی گئی
دراصل یہ پورا تنازع دیوالی سے قبل بی ایم سی کی جانب سے شروع کی گئی مہم سے جڑا ہے۔ اس مہم کے تحت دیا مرزا نے اپنی ویڈیو میں لوگوں سے پٹاخے نہ جلانے اور ماحولیات کا خیال رکھتے ہوئے دیوالی منانے کی اپیل کی تھی۔ تاہم یکم نومبر کو ممبئی بی جے پی کے صدر اور رکن اسمبلی امیت ساٹم نے ان کی ویڈیو پر اعتراض کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو دیوالی منانے کا طریقہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہماری روایات اور ثقافت پہلے ہی مضبوط ہیں۔
اس کے بعد ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے بھی دیا مرزا پر ہندو مخالف موقف اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ مہاراشٹر حکومت کے وزیر نتیش رانے نے بھی اداکارہ کی ویڈیو پر سوالات اٹھائے۔ان اعتراضات کے بعد بی ایم سی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے دیا مرزا کی ویڈیو ہٹا دی، حالانکہ مادھوری دکشت، اجنکیا رہانے اور نشی گندھا واڈ کی ویڈیوز موجود رہیں۔ ویڈیو ہٹائے جانے پر دیا مرزا نے بھی ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی ایک سنگین تشویش کا موضوع ہے اور اسے کم کرنے کی ہر کوشش کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ لوگوں کی صحت سے جڑا معاملہ ہے۔اس کے بعد منگل کے روز بامبے ہائی کورٹ نے اس معاملے پر ناراضگی ظاہر کی اور بی ایم سی کو دیا مرزا کی ویڈیو دوبارہ اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہندوستانی خاتون کرکٹ ٹیم کی نوجوان اسپنر ویشنوِی شرما نے آئی سی سی ویمنز ون…
ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ پرلے میزائل کا اڈیشہ کے چندی پور میں…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے انڈیا اتحاد میں شمولیت کے معاملے پر سیاسی…
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…
تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…
دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…