انٹرٹینمنٹ

Meera’ in Cocktail: فلم ’کاک ٹیل‘ کی ’میرا‘ نے لیا تھا 4 سال کا بریک، ہر کردار میں نظر آیا ڈیانا پینٹی کا نیا رنگ

نئی دہلی : ہندوستانی سنیما اور فیشن کی دنیا میں چند ہی ایسی شخصیات ہیں، جنہوں نے کسی فلمی پس منظر کے بغیر اپنی الگ اور مضبوط شناخت قائم کی ہے۔ 2 نومبر 1985 کو ممبئی میں پیدا ہونے والی ڈیانا پینٹی بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ پارسی والد اور کونکنی عیسائی والدہ کے گھر میں پرورش پانے والی ڈیانا کا بچپن مختلف ثقافتوں کے ماحول میں گزرا، جس نے ان کی شخصیت کو ایک منفرد رنگ عطا کیا۔ڈیانا نے کامیابی کی تعریف صرف مسلسل خبروں اور سرخیوں میں رہنے تک محدود نہیں رکھی، بلکہ اپنے پرسکون مزاج، صبر اور سوچ سمجھ کر منتخب کیے گئے کاموں کے ذریعے تفریحی دنیا میں ایک الگ مقام حاصل کیا ہے۔

ماڈلنگ سے بین الاقوامی فیشن کی دنیا تک کا سفر

ڈیانا پینٹی نے ممبئی کے سینٹ زیویئرز کالج سے ماس میڈیا (بی ایم ایم) میں گریجویشن کے دوران اتفاقاً ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ 2005 میں ایلیٹ ماڈلز انڈیا کے ساتھ جزوقتی طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی ڈیانا نے پہلے ہی سال اطالوی ڈیزائنرز نکولا ٹروسارڈی اور جیان فرانکو فیرے کے لیے ریمپ پر واک کی۔اس کے بعد انہوں نے پیرس اور نیویارک فیشن ویک سمیت بین الاقوامی فیشن پلیٹ فارمز پر اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی۔ ان کے اعتماد اور فطری شائستگی کا ہی نتیجہ تھا کہ 2018 میں انہیں دنیا کے معروف برانڈ ’ایسٹی لاؤڈر‘ کی پہلی ہندوستانی برانڈ ایمبیسڈر منتخب کیا گیا۔

’کاک ٹیل‘ سے بالی ووڈ میں پہچان

فیشن کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ڈیانا نے 2012 میں ہومی اداجانیا کی فلم ’کاک ٹیل‘ کے ذریعے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ اس فلم میں انہوں نے ’میرا ساہنی‘ کا کردار ادا کیا، جو شرمیلی، روایتی اقدار کی حامل اور سنجیدہ طبیعت کی لڑکی تھی۔ ان کی اداکاری کو ناظرین نے بے حد پسند کیا اور اس کردار کے لیے انہیں فلم فیئر کے بہترین نئی اداکارہ کے ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی ہی فلم سے شہرت حاصل کرنے کے بعد ڈیانا نے مسلسل فلمیں سائن کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے 4 سال کا طویل وقفہ لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اچانک ملنے والی شہرت کے لیے خود کو تیار نہیں سمجھتی تھیں۔ وہ اپنی شناخت کو صرف ’گرل نیکسٹ ڈور‘ یعنی عام پڑوس کی لڑکی جیسے محدود کردار تک نہیں رکھنا چاہتی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ صرف ایسے منصوبوں کا حصہ بنیں، جن کی کہانی سے انہیں حقیقی وابستگی محسوس ہو۔

’ہیپی بھاگ جائے گی‘ سے ’چھاوا‘ تک اداکاری کے نئے رنگ

2016 میں فلم ’ہیپی بھاگ جائے گی‘ کے ذریعے واپسی کرتے ہوئے ڈیانا نے ایک بے خوف اور پرجوش لڑکی کا کردار ادا کیا۔ اس فلم سے انہوں نے ناقدین کو دکھا دیا کہ وہ مختلف نوعیت کے کرداروں میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس کے بعد انہوں نے ’لکھنؤ سینٹرل‘ (2017) میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی کارکن، ’پرمانو: دی اسٹوری آف پوکھران‘ (2018) میں فوجی افسر اور ’شدت‘ (2021) جیسی فلموں میں اپنے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ڈیانا نے دلقیر سلمان کے ساتھ فلم ’سیلوٹ‘ (2022) کے ذریعے ملیالم سنیما میں بھی کامیاب آغاز کیا۔حال ہی میں 2025 کی تاریخی فلم ’چھاوا‘ میں اورنگ زیب کی بیٹی زینت النساء بیگم کا پیچیدہ کردار ادا کرکے انہوں نے خاصی توجہ حاصل کی۔ اس کے علاوہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ان کی ویب سیریز ’ڈو یو وانا پارٹنر‘ بھی موضوع بحث رہی، جس میں مردوں کے غلبے والی بیئر انڈسٹری میں خواتین کو کاروبار شروع کرنے اور آگے بڑھانے کی جدوجہد کو پیش کیا گیا ہے۔

سماجی خدمات میں بھی سرگرم

اداکاری کے علاوہ ڈیانا پینٹی سماجی کاموں میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ کووڈ-19 وبا کے مشکل دور میں انہوں نے ’دی خاکی پروجیکٹ‘ کے ذریعے ممبئی پولیس کو ہینڈ سینیٹائزر اور حفاظتی چشمے فراہم کیے تھے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ’کیٹو انڈیا‘ کے اشتراک سے ’ایوری لائف میٹرز‘ مہم بھی چلائی، جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کی مالی مدد کی گئی۔ یوں ڈیانا پینٹی نے ماڈلنگ، اداکاری اور سماجی خدمات، تینوں شعبوں میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LPG Cylinders Become Costlier: ایل پی جی سلنڈر مہنگا، دیوالی سے پہلے دہلی سے چنئی تک قیمتوں میں اضافہ

بین الاقوامی بازار میں قیمتیں بڑھنے کے باعث ملک میں بھی اس کے دام بڑھائے…

1 hour ago

Prime Minister Modi extended his best wishes: کرناٹک اور کیرالہ کے یوم تاسیس پر وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امت شاہ سمیت کئی مرکزی رہنماؤں کی مبارک باد

وزیراعظم مودی نے کرناٹک اور کیرالہ ریاستوں کی ثقافتی وراثت اور ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا۔…

3 hours ago