نئی دہلی : صوفی اور قوالی موسیقی کی معروف روایت سے تعلق رکھنے والے ممتاز پلے بیک سنگر شباب صابری آج اپنی منفرد آواز اور وراثتی فن کی بدولت بالی ووڈ سمیت موسیقی کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ 6 جولائی 1979 کو اتر پردیش کے سہارنپور میں پیدا ہونے والے شباب صابری نے اپنے خاندانی موسیقی ورثے کو جدید فلمی موسیقی کے ساتھ جوڑ کر ایک منفرد شناخت قائم کی۔شباب صابری کے والد مرحوم محمد اقبال صابری اور چچا استاد افضل صابری ملک کے نامور صوفی گلوکاروں اور قوالوں میں شمار ہوتے تھے۔ موسیقی سے وابستہ ماحول میں پرورش پانے کے باعث انہیں بچپن ہی سے گائیکی کا شوق تھا۔ اگرچہ اہلِ خانہ ابتدا میں انہیں اس شعبے کی مشکلات سے دور رکھنا چاہتے تھے، لیکن ان کی غیر معمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے باقاعدہ کلاسیکی موسیقی کی تعلیم دلوائی گئی۔
ان کے خاندان نے ’’بھر دو جھولی میری‘‘ جیسی لازوال قوالی کو دنیا بھر کے اسٹیجوں پر پیش کرکے صوفی موسیقی کو عالمی سطح پر نئی شناخت دلائی۔ صرف 14 برس کی عمر میں شباب صابری نے رام پور۔سہسوان گھرانے کے ممتاز کلاسیکی گلوکار استاد راشد خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی، جس نے ان کی آواز اور فنی صلاحیتوں کو مزید نکھار دیا۔کلاسیکی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کے ساتھ ملک اور بیرونِ ملک متعدد لائیو کنسرٹس میں شرکت کی اور اسٹیج پرفارمنس کی باریکیوں سے واقفیت حاصل کی۔ اگرچہ انہیں لائیو شوز میں خاصی مقبولیت ملی، لیکن ان کا خواب بالی ووڈ میں ایک کامیاب پلے بیک سنگر کے طور پر اپنی الگ شناخت بنانا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد خاندان ممبئی منتقل ہو گیا، جہاں ابتدائی جدوجہد کے دوران انہوں نے اپنی کلاسیکی گائیکی کو فلمی موسیقی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا۔
2010 میں موسیقار جوڑی ساجد۔واجد نے انہیں سلمان خان کی فلم ‘دبنگ’ میں مشہور گیت ‘ہم کا پینی ہے’ گانے کا موقع دیا۔ یہ نغمہ ریلیز ہوتے ہی زبردست مقبول ہوا اور شباب صابری راتوں رات بالی ووڈ کے نمایاں گلوکاروں میں شامل ہو گئے۔ وہ اپنی کامیابی کا بڑا سہرا سلمان خان اور ساجد۔واجد کے سر باندھتے ہیں۔اس کے بعد انہوں نے سلمان خان کی فلم ‘جے ہو’ کے گیت ‘تیرے نینا مار ہی ڈالیں گے’، فلم ‘ویر’ کے ٹھمری انداز کے نغمے ‘پون اُڑا وے بتیاں’، جان ابراہم کی فلم ‘ویلکم بیک’ کے مقبول گیت ‘نس نس میں’، فلم ‘ایجنٹ ونود’ کے ‘دل میرا مفت کا’ اور ‘پریم رتن دھن پایو’ کے معروف گیت ‘جلتے دیے’ سمیت کئی یادگار نغموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔
شباب صابری صرف گائیکی تک محدود نہیں بلکہ سماجی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہتے ہیں۔ انہوں نے ممبئی میں منعقد ہونے والی پہلی بھارت۔بنگلہ دیش بین الاقوامی وہیل چیئر کرکٹ سیریز کے لیے رضاکارانہ طور پر تھیم سانگ بھی ریکارڈ کیا۔ آج بھی وہ لائیو کنسرٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنے نئے سنگلز ‘رب روٹھا’ اور ‘ماہی وے’ کے ذریعے مداحوں کو محظوظ کر رہے ہیں اور صوفی موسیقی کی روایت کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…