انٹرٹینمنٹ

A successful actress: وراثت نہیں، صلاحیت کے بل پر خود کی شناخت قائم کرنے والی اداکارہ شرتی کمل ہاسن

نئی دہلی: بھارتی سنیما میں چند شخصیات ایسی ہیں جو محض اداکاری تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں سے ایک الگ پہچان قائم کرتی ہیں۔ 28 جنوری کو اپنی سالگرہ منانے والی شرتی کمل ہاسن بھی ایسی ہی ایک نمایاں شخصیت ہیں، جنہوں نے خود کو صرف ایک ’’اسٹار کڈ‘‘ کے بجائے ایک محنتی، باصلاحیت اداکارہ، گلوکارہ اور موسیقار کے طور پر منوایا ہے۔

فلمی گھرانے سے تعلق، مگر اپنی الگ شناخت

1986 میں پیدا ہونے والی شرتی ہاسن، بھارتی سنیما کے عظیم اداکار کمل ہاسن اور معروف اداکارہ ساریکا ٹھاکر کی بیٹی ہیں۔ فلمی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے باوجود شرتی نے اپنی راہ خود بنائی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب اداکارہ ہیں بلکہ ایک مستند گلوکارہ اور میوزک کمپوزر بھی ہیں، جنہوں نے تمل، تیلگو اور ہندی سنیما میں مضبوط موجودگی درج کرائی۔ شرتی نے چنئی کے ایبیکس مونٹیسری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور دسویں جماعت تک وہیں زیر تعلیم رہیں۔ بعد ازاں انہوں نے ممبئی کے سینٹ اینڈریوز کالج سے نفسیات (سائیکولوجی) کی تعلیم حاصل کی۔ بچپن ہی سے موسیقی اور سنیما میں گہری دلچسپی نے انہیں امریکہ کے کیلیفورنیا میں واقع میوزیشنز انسٹی ٹیوٹ تک پہنچایا، جہاں انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

بچپن سے سنیما اور گائیکی کا سفر

محض چھ سال کی عمر میں شرتی ہاسن نے اپنے والد کی فلم ’’تیور مگن‘‘ (1992) میں پہلا گانا گایا، جسے عظیم موسیقار الیّا راجا نے کمپوز کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اسکولی دور میں ہندی فلم ’’چاچی 420‘‘ (1997) میں بھی گائیکی کی۔ سال 2000 میں فلم ’’ہے رام‘‘ میں بطور چائلڈ آرٹسٹ مختصر کردار ادا کیا اور اسی فلم کے لیے ہندی اور تمل میں ٹائٹل تھیم ’’راما راما‘‘ بھی گایا۔

بطور اداکارہ شروعات اور جنوبی سنیما میں کامیابی

شرتی ہاسن نے بطور ہیروئن اپنا فلمی ڈیبیو 2009 میں بالی ووڈ فلم ’’لک‘‘ سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جنوبی بھارتی سنیما کا رخ کیا، جہاں ان کے کیریئر نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ انہیں اصل شناخت تیلگو فلم ’’اناگن گا او دھیرڈو‘‘ (2011) سے ملی، جس پر انہیں فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین خاتون ڈیبیو (ساؤتھ) سے نوازا گیا۔

ایوارڈز اور نمایاں فلمیں

فلم ’’ریس گرم‘‘ (2014) میں شاندار اداکاری پر شرتی کو فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین اداکارہ (تیلگو) ملا۔ مجموعی طور پر وہ تین فلم فیئر ایوارڈز سمیت کئی اعزازات اپنے نام کر چکی ہیں۔ ہندی سنیما میں انہوں نے ’’ڈی ڈے‘‘، ’’رامیا وستاویا‘‘، ’’گبّر از بیک‘‘، ’’ویلکم بیک‘‘ اور ’’راکی ہینڈسم‘‘ جیسی فلموں میں کام کیا، جن میں سے کئی کو ناقدین کی ستائش اور تجارتی کامیابی حاصل ہوئی۔

اداکاری کے ساتھ موسیقی بھی پہچان

شرتی ہاسن کے فن کا ایک اہم پہلو موسیقی ہے۔ وہ ایک کامیاب پلے بیک سنگر ہیں۔ سال 2009 میں انہوں نے اپنے والد کے پروڈکشن ’’اُنّی پول اورون‘‘ سے بطور میوزک ڈائریکٹر بھی آغاز کیا۔ بعد میں انہوں نے اپنا ذاتی میوزک تخلیق کیا اور ایک بینڈ کے ذریعے موسیقی کی دنیا میں الگ شناخت قائم کی۔ شرتی ہاسن کا سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ شناخت وراثت سے نہیں بلکہ محنت، صلاحیت اور لگن سے بنتی ہے۔ سُر، اسکرین اور جذبات کا یہ حسین امتزاج ابھی جاری ہے اور آنے والے وقت میں ان کے فن کے کئی اور رنگ سامنے آنے کی امید ہے۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago