Uncategorized

Mehbooba Mufti Won’t Fight Elections: جموں کشمیر کو جب تک آرٹیکل 370 واپس نہیں مل جاتا،تب تک اسمبلی انتخابات نہیں لڑوں گی: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا اعلان

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نےآج کرناٹک کے لوگوں کی ستائش کی  ہے کہ انہوں نے اسمبلی انتخابات میں ایک “فاشسٹ اور فرقہ پرست جماعت بی جے پی” کو شکست دے کر پورے ملک کو امید کی کرن دکھائی ہے۔ اس موقع سے انہوں نے دہلی کی کجریوال سرکار کے اختیارات کے معاملے میں مرکزی سرکار کے نئے آرڈیننس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تمام جماعتوں کیلئے محتاط رہنے کا وقت ہے ۔ چونکہ موجودہ مرکزی سرکار ایسی کوشش کسی بھی ریاست میں کسی بھی حکومت کے خلاف کرسکتی ہے۔

بنگلورو میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو کچھ دہلی اور جموں کشمیر میں ہورہا ہے ، یہ پورے ملک میں ہونے والا ہے چونکہ بی جے پی کسی بھی صورت میں کوئی اپوزیشن نہیں چاہتی ہے۔ دہلی کی کجریوال سرکار کو بے اختیار کردیا گیا ہے اور اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے موجودہ مرکزی سرکار ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی ایسا کرنے والی ہے۔

جموں کشمیر میں اسمبلی انتخاب کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست میں جب تک آرٹیکل 370 کی منسوخی کا فیصلہ ختم نہیں ہوتا اور جب تک 370 واپس بحال نہیں کیا جاتا تب تک میں اسمبلی انتخابات نہیں لڑوں گی۔ محبوبہ مفتی نے یہ بھی واضح کردیا کہ وہ ذاتی طور پر اسمبلی انتخاب نہیں لڑیں گی البتہ ان کی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پوری طرح سے انتخاب کیلئے تیار ہے۔

جموں کشمیر کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل تھا جووفاقی نظام کا بہترین مثال تھی،لیکن ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بے اختیار کر دیا گیا اور آج عالم یہ ہے کہ سب سے زیادہ فوج ہماری ریاست میں ہے جہاں کی عوام کو سیکورٹی کے نام پر مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس بات پر توجہ دیں کہ جموں و کشمیر میں کیا ہورہا ہے۔ ہمارے تمام پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں۔ ہمیں طرح طرح سے ایجنسیوں کے سہارے ڈرانے دھمکانے کی کوشش ہورہی ہے۔

کرناٹک اسمبلی انتخاب کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کرناٹک کی عوام نے ملک کو امید کی ایک کِرن دکھائی ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران پی ایم مودی سمیت تمام بی جے پی لیڈران مذہب کا بڑھ چڑھ کر سہارا لے رہے تھے ،لیکن کرناٹک کی باشعور عوام نے ان مذہبی کارڈ کو سرے سے خارج کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس کی جیت کی بنیاد ڈالی ہے اور اب وہاں سے بی جے پی باہر ہوچکی ہے۔

Rahmatullah

Recent Posts

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

13 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

47 minutes ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

1 hour ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

2 hours ago