Uncategorized

AI-Powered Survey Vehicles: قومی شاہراہوں کی نگرانی میں انقلابی تبدیلی، حکومت نے اے آئی سے لیس سروے گاڑیاں تعینات کیں

نئی دہلی: مرکزی وزارتِ سڑک نقل و حمل و شاہراہیں (MoRTH) نے ملک بھر میں جدید نیٹ ورک سروے وہیکلز (NSV) تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے، جو مصنوعی ذہانت (AI) اور تھری ڈی لیزر پر مبنی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی شاہراہوں کی نگرانی اور دیکھ بھال کے نظام میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوگا۔ وزارت کے مطابق یہ جدید گاڑیاں لیزر پروفائلرز، جی پی ایس سسٹم، ہائی ریزولوشن کیمروں اور جدید 3D لیزر سینسرز سے آراستہ ہیں، جو شاہراہوں کا تفصیلی سروے کرکے سڑکوں کی حالت کا مکمل ڈیجیٹل نقشہ تیار کریں گی۔

سڑکوں کی خرابیوں کی فوری نشاندہی

یہ جدید نظام سڑکوں میں موجود گڑھوں، دراڑوں، پیچ ورک، سطحی ناہمواریوں اور دیگر تکنیکی خامیوں کی فوری نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے متعلقہ ادارے بروقت مرمتی اقدامات کر سکیں گے، جس سے سڑکوں کی حالت بہتر اور سفر زیادہ محفوظ ہوگا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قومی شاہراہوں پر سفر کے معیار کو بہتر بنانا اور سڑکوں کی حفاظت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

روزانہ 300 کلومیٹر تک سروے کی صلاحیت

روایتی سروے طریقوں کے ذریعے روزانہ صرف 20 سے 80 کلومیٹر سڑک کا معائنہ کیا جا سکتا تھا، لیکن نئی نسل کی یہ اے آئی سے چلنے والی سروے گاڑیاں ایک دن میں 300 کلومیٹر تک شاہراہوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حکام کے مطابق اس بڑھتی ہوئی استعداد سے سڑکوں کی خرابیوں کی نشاندہی تیزی سے ہوگی اور مرمت کے کام میں لگنے والا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

رپورٹ سازی کا عمل چند دنوں میں مکمل

وزارت نے بتایا کہ سروے کے دوران حاصل ہونے والا خام ڈیٹا خفیہ کاری (Encryption) کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر مرکزی این ایس وی مرکز کو بھیج دیا جائے گا۔ اس کے بعد ملک کے پانچ مختلف علاقوں میں موجود ماہرین کی ٹیمیں اس ڈیٹا کا تجزیہ کرکے رپورٹ تیار کریں گی۔ پہلے یہی عمل مکمل ہونے میں چار سے چھ ماہ لگتے تھے، لیکن اب اسے صرف دس دنوں میں مکمل کیا جا سکے گا۔

ڈیجیٹل نوٹس اور زیادہ شفافیت

رپورٹ کی منظوری سے قبل سخت معیار جانچ (Quality Check) کے مراحل سے گزارا جائے گا۔ رپورٹ کی توثیق کے بعد متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے خودکار نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور نگرانی و مرمت کا پورا عمل مزید شفاف اور جوابدہ بنے گا۔

این ایچ اے آئی کے اے آئی ڈیٹا لیک پلیٹ فارم سے انضمام

اس نئی ٹیکنالوجی کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا لیک پورٹل سے جوڑا گیا ہے۔ سروے سے متعلق تمام معلومات براہِ راست اس پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی جائیں گی، جس سے ماہرین حقیقی وقت (Real Time) میں شاہراہوں کی صورتحال کا تجزیہ کر سکیں گے اور حقائق پر مبنی مرمت و دیکھ بھال کے فیصلے لے سکیں گے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے قومی شاہراہوں کے انتظام و انصرام کو جدید، ڈیجیٹل اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

3 minutes ago

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

3 hours ago