کرکٹ کی دنیا میں آج “آل راؤنڈر” کی اصطلاح ہر اس کھلاڑی کے لیے استعمال ہوتی ہے جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں مہارت رکھتا ہو، لیکن یہ لقب درحقیقت ویسٹ انڈیز کے عظیم کرکٹر سر گارفیلڈ سوبرز کے لیے مشہور ہوا۔ انہیں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مکمل کھلاڑی مانا جاتا ہے، جنہوں نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کے ہر شعبے میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اگر وہ آج کے آئی پی ایل دور میں کھیل رہے ہوتے تو بلاشبہ دنیا کے مہنگے ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے۔
کم عمری میں شاندار آغاز
سر گارفیلڈ سوبرز 28 جولائی 1936 کو بارباڈوس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صرف 16 برس کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا اور 1954 میں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔ ابتدا میں وہ ایک بولر کے طور پر جانے جاتے تھے، لیکن جلد ہی ان کی شاندار بیٹنگ نے بھی دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ وہ بائیں ہاتھ کے جارح مزاج بلے باز تھے، جبکہ بولنگ میں لیفٹ آرم میڈیم پیس، فنگر اسپن اور چائنا مین سمیت کئی انداز اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ فیلڈنگ میں بھی وہ ہر پوزیشن پر یکساں مہارت رکھتے تھے۔
ناقابلِ فراموش ریکارڈز
1958 میں پاکستان کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ میں سوبرز نے ناقابلِ شکست 365 رنز بنا کر اس وقت کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ یہ ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی، جسے انہوں نے ٹرپل سنچری میں تبدیل کر دیا۔ یہ ریکارڈ 36 برس تک قائم رہا، یہاں تک کہ 1994 میں برائن لارا نے 375 رنز بنا کر اسے توڑا۔ سوبرز آج بھی کم عمر ترین ٹیسٹ ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز ہیں۔
1968 میں ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے گلیمورگن کے خلاف میلکم نیش کے ایک ہی اوور میں مسلسل چھ چھکے لگا کر فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے بلے باز بن گئے۔
شاندار بین الاقوامی کیریئر
سر گارفیلڈ سوبرز نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 93 میچوں میں 8032 رنز بنائے، جن میں 26 سنچریاں شامل تھیں اور ان کی بیٹنگ اوسط 57.78 رہی۔ بولنگ میں انہوں نے 235 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 39 ٹیسٹ میچوں میں ویسٹ انڈیز کی قیادت بھی کی۔
اپنے دور سے بہت آگے
سوبرز کو اپنے دور سے کہیں آگے کا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا۔ لیجنڈری بلے باز سر ڈان بریڈمین نے بھی انہیں تاریخ کا بہترین آل راؤنڈر قرار دیا تھا۔ سال 2000 میں وزڈن نے انہیں صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں سر ڈان بریڈمین کے بعد دوسرا مقام دیا، جبکہ 2009 میں انہیں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ
سر گارفیلڈ سوبرز نے صرف ریکارڈز ہی قائم نہیں کیے بلکہ آل راؤنڈرز کی آنے والی نسلوں کے لیے ایک معیار بھی قائم کیا۔ ایان بوتھم، کپل دیو، جیکس کیلس، بین اسٹوکس اور کئی دیگر عظیم آل راؤنڈرز نے انہیں اپنی تحریک کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ ان کی دلکش بیٹنگ، متنوع بولنگ اور شاندار فیلڈنگ نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مکمل کھلاڑی بنا دیا۔ اسی لیے آج بھی جب “آل راؤنڈر” کا ذکر ہوتا ہے تو سر گارفیلڈ سوبرز کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…