اسپورٹس

Messi’s team accuses Aroop Biswas of causing disorder: میسی کی ٹیم نے سابق وزیر اروپ بسواس پر بدانتظامی پھیلانے کا لگایا الزام، جانئے کیا ہے سارا معاملہ

کولکتہ: فٹبال کے عالمی ستارے لیونل میسی کے ’’گوٹ انڈیا ٹور‘‘ کے دوران گزشتہ سال دسمبر میں کولکتہ کے سالٹ لیک واقع یوا بھارتی کریڑانگن میں پیدا ہونے والی بدانتظامی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ میسی کی ٹیم نے بدھ کے روز بیدھان نگر پولیس کمشنریٹ سے رابطہ کرتے ہوئے سابق وزیرِ کھیل اروپ بسواس پر پروگرام میں افراتفری پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

میسی کے مشیر کی پولیس کو شکایت

پولیس ذرائع کے مطابق میسی کے مشیر کی حیثیت سے بھارت آئے ان کی ٹیم کے ایک رکن نے بیدھان نگر پولیس کمشنر تریپوراری اتھرو کو ای میل بھیج کر دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیڈیم میں افراتفری اس وقت شروع ہوئی جب اُس وقت کے وزیرِ کھیل اروپ بسواس میدان میں داخل ہوئے۔

میسی کے ساتھ تصاویر لینے کی کوشش کا الزام

شکایت میں کہا گیا ہے کہ اروپ بسواس بار بار میسی کے کندھے اور کمر کو چھو کر ان کے ساتھ تصاویر کھینچوانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ متعدد ایسے افراد بھی میدان میں داخل ہو گئے تھے جنہیں وہاں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

سکیورٹی پر اٹھے سنگین سوالات

شکایت کے مطابق میدان میں صرف تین فوٹوگرافروں کو موجود رہنے کی اجازت تھی، لیکن اس وقت تقریباً چالیس افراد وہاں موجود تھے۔ اس صورتحال سے میسی خود کو غیر محفوظ اور غیر آرام دہ محسوس کرنے لگے، جبکہ ان کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا ہو گئے۔ اسی وجہ سے انہیں پروگرام ادھورا چھوڑ کر میدان سے جانا پڑا۔ میسی کی ٹیم نے اپنی شکایت میں واضح کیا ہے کہ اس پوری صورتحال کے لیے پروگرام کے منتظم ستدرو دتہ ذمہ دار نہیں تھے، کیونکہ حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے تھے۔

ستدرو دتہ کا ردعمل

دوسری جانب ستدرو دتہ نے بھی کہا کہ میسی کی ٹیم کی جانب سے فراہم کی گئی یہ معلومات تحقیقات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 13 دسمبر کو پیش آنے والی بدانتظامی کے بعد ستدرو دتہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے متعدد مواقع پر سابق وزیر اروپ بسواس پر سکیورٹی انتظامات میں سنگین لاپروائی اور بدانتظامی پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

عدالت میں قانونی چیلنج

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد ستدرو دتہ نے اروپ بسواس کے خلاف بیدھان نگر پولیس میں شکایت درج کرائی اور انہیں سکیورٹی میں کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا۔ منگل کے روز انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے اس معاملے میں اروپ بسواس کو حاصل قانونی تحفظ کو بھی چیلنج کیا۔ دتہ کے وکیل ارندم جنا نے چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے معاملے کا ذکر کیا، جس کے بعد عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی۔ امکان ہے کہ اس ہفتے کے اختتام تک اس معاملے کی سماعت کی جائے گی۔

گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے رجوع

واضح رہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اروپ بسواس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے تحفظ طلب کیا تھا۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے چند شرائط کے ساتھ انہیں عبوری راحت دیتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کی ہدایت دی تھی اور بیدھان نگر پولیس کو غیر جانبدارانہ تفتیش کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

ٹکٹوں کی تقسیم پر بھی الزام

ستدرو دتہ کا دعویٰ ہے کہ میسی کے پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 70 ہزار ٹکٹ چھاپے گئے تھے، جن میں سے 22 ہزار ٹکٹ اُس وقت کے وزیرِ کھیل اروپ بسواس نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے حاصل کر لیے تھے۔ دتہ کے مطابق ان ٹکٹوں کو وزیر نے اپنے قریبی افراد میں تقسیم کیا اور بعض ٹکٹ فروخت بھی کروائے گئے، جس کے نتیجے میں پروگرام میں غیر معمولی ہجوم جمع ہوا اور بدانتظامی کی صورتحال پیدا ہوئی۔ پولیس نے اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے اروپ بسواس کو متعدد بار نوٹس جاری کیے ہیں، تاہم انہوں نے اب تک تفتیش میں شرکت نہیں کی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Sambhal Violence Case: سنبھل تشدد کے ملزم افروز کی این ایس اے حراست منسوخ، سپریم کورٹ کا یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

سپریم کورٹ نے غیر قانونی احتیاطی حراست کا حکم جاری کرنے پر اتر پردیش حکومت…

2 hours ago

Shehzad Poonawalla: ٹی وی شو رائز اینڈ فال میں شہزاد پونا والا سے ہاتھا پائی، کیسے شروع ہوا تنازع؟

کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزاد پونا والا کے ساتھ مبینہ ہاتھا…

3 hours ago