کولکاتا نائٹ رائیڈرس (کے کے آر) کے آئی پی ایل 2026 میں چارلیگ میچ ہوچکے ہیں۔ ٹیم کو تین میچوں میں ہارکا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ایک میچ بارش کی وجہ سے بے نتیجہ رہی۔ اب مسلسل تین ہار جھیلنے کے بعد کولکاتا نائٹ رائیڈرس کو بڑی مضبوطی ملنے والی ہے، جو متھیشا پتھیرانا کے طورپرہوگا۔ پتھیرانا کولکاتا کے لئے کھیلنے کے لئے تیار ہے۔ کرک بز کے مطابق، چوٹ سے جدوجہد کررہے پتھیرانا کو سری لنکا کرکٹ بورڈ سے انڈین پریمیئرلیگ (آئی پی ایل) میں کھیلنے کے لئے نوآبجیکشن سرٹیفکیٹ (این اوسی) مل گئی ہے۔
واضح رہے کہ فرنچائزی نے پتھیرانا کو 2026 سیزن کے لئے 18 کروڑ روپئے کی قیمت میں خریدا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پتھیرانا کولکاتا کے لئے اگلے میچ سے ہی دستیاب ہوجائیں گے۔ کولکاتا کا اگلا یعنی پانچواں لیگ میچ 14 اپریل، منگل کو چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں ہوگا۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ شروعاتی چارمیچوں تک باہررہنے والے پتھیرانا ٹیم کو کتنا فائدہ پہنچاتے ہیں۔
گیند بازوں کی کمی سے جدوجہد کررہی ہے کے کے آر
پتھیرانا کے علاوہ فرنچائزی اوربھی تیزگیند بازوں کی کمی سے جدوجہد کررہی ہے۔ ٹیم کے اہم تیزگیند بازوں میں شامل ہرشت رانا پہلے سے ہی باہرہیں۔ اس کے علاوہ آکاش دیپ بھی نہیں کھیل رہے ہیں۔ غورکرنے والی بات یہ ہے کہ کولکاتا نے پتھیرانا کا کوئی ریپلیسمنٹ نہیں تلاش کیا، بلکہ فرنچائزی بولرکی ترقی کے حوالے سے فرنچائزسری لنکن بورڈ سے مسلسل رابطے میں رہی۔
ورلڈ کپ میں زخمی ہوئے تھے پتھیرانا
پتھیرانا کو 2026 ٹی-20 ورلڈ کپ کے دوران چوٹ لگی تھی، جس کی وجہ سے وہ کرکٹ سے دورتھے۔ اب وہ واپسی کے لئے پوری طرح سے تیارنظرآرہے ہیں۔ آئی پی ایل کے موجود سیزن میں ان کی واپسی چنئی سپرکنگس کے خلاف ہوسکتی ہے، جس کا پہلے پتھرانا حصہ تھے۔
متھیشا پتھیرانا کا آئی پی ایل کیریئر
متھیشا پتھیرانا نے اب تک اپنے آئی پی ایل کیریئر میں 32 مقابلے کھیل لئے ہیں۔ ان میچوں کی 32 اننگوں میں گیند بازی کرتے ہوئے انہوں نے 12.61 کی اوسط سے 47 وکٹ حاصل کئے، جس میں بہترین کارکردگی 28/4 (28 رن پر4 وکٹ) کی رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منی پور میں مختلف برادریوں سے تعلق…
انوج ٹھاکر نے 27 اکتوبر 2026 کو آخری سانس لی۔ قریبی دوست روپیش سونار کے…
یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ون ڈے 4 نومبر کو آکلینڈ کے ایڈن…
جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے 29 اکتوبر کے اپنے…
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ آج دنیا کے پاس…