کیا کوئی کھلاڑی اپنی موت کے 15 سال بعد ڈیبیوکرسکتا ہے؟ شاید آپ کو یہ مذاق لگے، لیکن یہ حقیقت ہے۔ انگلینڈ کے کرکٹر ہیری لی نے ایسا کردکھایا۔ تاریخ کی کتابوں میں درج یہ نام اپنے کیریئرمیں صرف ایک ٹسٹ میچ کھیلنے کے باوجود بھی امرہوگیا، کیونکہ ہیری لی نے اپنی موت کے 15 سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔
1890 میں پیدائش، خواب تھا لارڈس کے میدان پر کھیلنا
ہیری لی کی پیدائش 1890 میں ایک سبزی اورکوئلے کے تاجر کے گھرمیں ہوئی تھی۔ ان کی پرورش میلبورن کی گلیوں میں ہوئی تھی، لیکن ان کے دل میں بس ایک خواب پل رہا تھا، وہ تھا لارڈس کے میدان پرکھیلنے کا۔ 15 کی عمرمیں انہوں نے ایم سی سی (میلبورن کرکٹ کلب) کو خط لکھا اور گراؤنڈ اسٹاف کی نوکری مانگی۔ یہاں پرانہوں نے اسٹینڈس کی صفائی سے لے کر پچ رول کرنے تک کے کام سے شروعات کی۔ اس کے بعد انہوں نے دھیرے دھیرے میڈل کلاس کی انڈر-19 ٹیم میں جگہ بنائی اور 1914 تک وہ کاؤنٹی ٹیم کے مستقل کھلاڑی بن گئے تھے۔
پھرآئی جنگ اور ‘موت’
ان کے لارڈس میں کھیلنے کا خواب مزید حوصلے بلند کرر ہا تھا کہ 1914 میں پہلی جنگ چھڑگئی۔ برطانیہ نے سبھی نوجوانوں سے جنگ میں حصہ لینے کی گزارش کی۔ ہیری نے برٹش آرمی کی 13ویں بٹالین (کینسگٹن) جوائن کی اور 1915 میں فرانس بھیج دیئے گئے۔ 9 مئی کو آبرس رج کی لڑائی میں ان کی ران میں گولی لگی اور وہ تین دن تک نومینس لینڈ میں پڑے رہے، جب تک کہ جرمنی کی فوج نے انہیں اٹھاکر اسپتال نہیں پہنچایا۔ اس کے بعد برطانیہ میں ان کے ہونے کا کوئی سراغ نہیں ملا اور انہیں مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔ ان کی ’موت‘ کی خبر ان کے گھر تک پہنچ گئی اور باضابطہ ریکارڈ میں ان کا نام مرنے والوں میں شامل کردیا گیا تھا۔
ہیری کی نہیں ہوئی تھی ’موت‘
جرمنی میں ہیری بہت وقت تک قید میں پڑے رہے تھے۔ وہیں پر ہیری کو ایک برٹش قیدی نے مشورہ دیا کہ اپنی چوٹ کو بڑھا چڑھا کر بتائیں تاکہ وطن واپسی کا موقع مل سکے۔ اس قیدی کی یہ تقریباً کام کرگئی اور اکتوبر 1915 میں ہیری کو واپس انگلینڈ بھیج دیا گیا تھا، لیکن سچ یہ تھا کہ چوٹ کی وجہ سے ان کا ایک پیر مستقل طور پر چھوٹا ہوگیا تھا۔ ڈاکٹروں نے انہیں کرکٹ چھوڑنے کا مشورہ دیا، لیکن ہیری لی نے ہار ماننے سے انکار کردیا تھا۔
حوصلے کی جیت، کرکٹ میں واپسی
ان سب کے بعد بھی ہیری نے ہار نہیں مانی اور کرکٹ کھیلنے کا ارادہ مزید مضبوط کرلیا تھا۔ مڈل سیکس نے انہیں دوبارہ ٹریننگ میں لوٹنے کا موقع دیا۔ ہیری نے 1919 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ 13 بار ایک سیزن میں 1,000+ رن بنانے والے کھلاڑی بنے اور مسلسل کاؤنٹی کرکٹ میں چمکتے رہے۔
15 سال بعد ڈریم ڈیبیو
وقت گزرتا گیا، لیکن ہیری کی کہانی ابھی ادھوری تھی۔ 1930 میں انگلینڈ کی ٹیم جنوبی افریقہ دورے پرگئی تھی اورچوٹ سے پریشان ٹیم کو ایک بھروسے مند بلے بازکی ضرورت تھی۔ اس وقت ٹیم نے ہیری پربھروسہ جتایا اور 40 سال کے ہیری لی کو موقع ملا ایک ٹسٹ میں کھیلنے کا، جو ان کی ’موت‘ کے 15 سال بعد ہوا۔ فروری 1931 میں چوتھے ٹسٹ میں انہوں نے انگلینڈ کے لئے ڈیبیو کیا۔ انہوں نے اپنی پہلی اننگ میں 18 اور دوسری میں 11 رن بنائے۔ اسکوربورڈ پریہ اعدادوشمارمعمولی نظرآسکتے ہیں، لیکن ایک ایسے کھلاڑی کے لئے جس نے ایک بار اپنی ’موت‘ کی خبر اخباروں میں پڑھ لی تھی، یہ کسی دوبارہ زندگی سے کم نہیں تھی۔
کرکٹر، پھرامپائراورپھرکوچ
سال 1934 میں ریٹائرہونے کے بعد ہیری لی امپائربنے اورپھرکوچنگ سے جڑگئے۔ انہوں نے ڈاؤن سائڈ اسکول میں کوچنگ دی اور 90 سال کی عمرمیں دنیا کو الوداع کہہ دیا۔
ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ اپوزیشن آکاشوانی بھون کے احاطے میں…
کاجل نے واضح کیا کہ انہوں نے ایسا کسی کے چھوڑ جانے یا محبت میں…
مہاراشٹر میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پر تقریباً ایک گھنٹے تک ہوئی بات چیت،…
فلم ’کھلاڑیوں کا کھلاڑی‘ میں ریوینا ٹنڈن کے علاوہ سابق ڈبلیو ڈبلیو ایف، جو اب…
مینوفیکچرنگ، سروس، ٹیکنالوجی اور اختراع پر مبنی شعبوں میں توسیع کو ملے گا فروغ۔ کامیاب…