اسپورٹس

FIFA World Cup 2026: دہلی ہائی کورٹ کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کی مفت نشریات سے متعلق عرضی پر مرکز اور پرسار بھارتی کو نوٹس

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ہندوستان میں نشریات کو یقینی بنانے سے متعلق دائر درخواست پر مرکزی حکومت اور پراسر بھارتی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی فٹبال ٹورنامنٹ کو عوامی اور مفت پلیٹ فارمز، خصوصاً دوردرشن اور ڈی ڈی اسپورٹس پر نشر کیا جائے تاکہ ملک کے تمام شائقین اس سے استفادہ کرسکیں۔ جسٹس پروشائندر کمار کورو نے آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت دائر عرضی کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ یہ عرضی وکیل اودھیش بیروا نے دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 11 جون سے 19 جولائی 2026 تک ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے اب تک ہندوستان میں کسی براڈکاسٹر نے میڈیا حقوق حاصل نہیں کیے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کے کروڑوں فٹبال شائقین دنیا کے سب سے بڑے کھیل مقابلوں میں سے ایک دیکھنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

Justice Purushaindra Kumar Kaurav issued notice to the respondents while hearing the writ petition filed by advocate Avdhesh Bairwa under Article 226 of the Constitution. T

قومی اہمیت کا کھیل ایونٹ قرار دیا جا چکا ہے

عرضی میں کہا گیا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کو پہلے ہی ’’قومی اہمیت کا کھیل ایونٹ‘‘ قرار دیا جا چکا ہے، جس کے بعد حکومت اور پراسر بھارتی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی عوامی رسائی کو یقینی بنائیں۔ درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ابتدا میں فیفا نے 2026 اور 2030 ورلڈ کپ کے ہندوستانی نشریاتی حقوق کی مالیت تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر رکھی تھی، لیکن براڈکاسٹروں کی کم دلچسپی کے باعث بعد میں اسے کم کرکے تقریباً 35 ملین ڈالر کر دیا گیا، اس کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

بھارت دنیا کے بڑے فٹبال مارکیٹوں میں شامل

عرضی میں فیفا کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت، فیفا ورلڈ کپ 2022 کے دوران دنیا کے سب سے زیادہ متحرک فٹبال ناظرین والے ممالک میں شامل تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ پراسر بھارتی کے پاس ڈی ڈی اسپورٹس، ڈی ڈی فری ڈش اور WAVES او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے ذریعے ٹورنامنٹ نشر کرنے کا مکمل انفراسٹرکچر موجود ہے۔ عرضی میں موقف اختیار کیا گیا کہ اگر فیفا ورلڈ کپ کی نشریات کا انتظام نہیں کیا گیا تو یہ شہریوں کے آئینی حقوق، خصوصاً آرٹیکل 14، 19(1)(a) اور 21 کی خلاف ورزی ہوگی، کیونکہ عوام کو اطلاعات اور کھیلوں کے بڑے عالمی ایونٹس تک رسائی حاصل ہونا ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل ویبھو گگر سمیت متعدد وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

2 hours ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

3 hours ago