شعروشاعری

Mirza Ghalib Poetry: بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ…. مرزا اسد اللہ خاں غالب کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالبؔ 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں والدین کے سائے سے محرومی اور کم عمری میں عملی زندگی کی مشکلات نے انہیں سنجیدہ اور غور و فکر کرنے والا مزاج عطا کیا۔ عمر کا بڑا حصہ دہلی میں گزرا، جہاں وہ نہ صرف شعر و سخن کے شہنشاہ بنے بلکہ فارسی و اردو دونوں زبانوں میں بلند پایہ تخلیق کار کے طور پر پہچانے گئے۔ 15 فروری 1869 کو دہلی ہی میں ان کا انتقال ہوا۔

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

مرزا غالبؔ

غالبؔ کا اصل کمال ان کے اسلوب کی طرفگی اور بیان کی جدت ہے۔ وہ میرؔ کی طرح صرف دل کا بوجھ ہلکا کرنے والے شاعر نہیں بلکہ اپنے جذبات پر فکری گرفت رکھنے والے فنکار تھے۔ شدتِ احساس کے باوجود وہ اپنے کرب سے لطف اندوز ہونا جانتے تھے اور صوفیانہ و فلسفیانہ نگاہ سے زندگی کو بازیچۂ اطفال سمجھتے تھے۔ دین و دنیا، جنت و دوزخ، دیر و حرم سب کو انسانی شوق کی عارضی منزلیں مانتے تھے۔

اپنے فن کو پختہ کرنے کے لیے انہوں نے ابتدا میں بیدلؔ کا انداز اپنایا، مگر اردو میں وہ پیچیدگی کامیاب نہ ہوئی۔ صائبؔ کی تمثیل نگاری اور میرؔ کی سادگی بھی انہیں مکمل طور پر راس نہ آئی۔ آخر عرفیؔ و نظیری کے متوازن اسلوب میں اپنا منفرد رنگ پیدا کیا۔ ان کے یہاں نہ بیدلؔ کی مشکل پسندی تھی نہ میرؔ کی یک رنگی بلکہ خیالات کی ندرت، زبان کی موسیقیت اور مضمون کی ہم آہنگی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔

عاشقانہ مضامین میں بھی انہوں نے نئی راہیں نکالیں۔ انہوں نے دل کی واردات کو محض بیان کرنے کے بجائے باریک نفسیاتی تجزیے کے ساتھ پیش کیا، جو اس وقت اردو میں نادر تھا۔ درد کے لمحوں میں میرؔ کی سادگی اور جوش کے موقع پر فارسی کی شان و شوکت کا امتزاج ان کے کلام کو دوہری تاثیر دیتا ہے۔

غالبؔ کا کلام زندگی کے ہر پہلو کو چھوتا ہے۔ محبت، غم، فلسفہ، کائنات، تقدیرغرض کوئی موضوع ان کے دائرۂ فکر سے باہر نہیں۔ وہ زبان کے ماہر جراح کی طرح الفاظ کا انتخاب کرتے اور بندش میں ایسا توازن رکھتے ہیں کہ شعر دل و دماغ دونوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

یوں غالبؔ اردو شاعری کے صرف رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مزاح نگار، مصلح اور انسان شناس بھی تھے۔ ان کی شاعری میں کائنات کی وسعت اور دل کی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہےاور یہی وہ راز ہے جو انہیں زندہ وجاوید کر گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi Air Quality: دہلی کی ہوا پھر ہوئی زہریلی، اکتوبر کا پہلا ہفتہ 3 سال میں سب سے زیادہ آلودہ، اوسط اے کیو آئی 171 ریکارڈ

مانسون کی رخصتی کے ساتھ دارالحکومت کی فضائی آلودگی میں اضافہ، 2025 کے مقابلے اس…

19 minutes ago

Rahul Gandhi First Reaction After Detained: حراست سے رہائی کے بعد راہل گاندھی کا پہلا ردعمل، کہا-پارلیمنٹ، سڑک اور جنتر منتر پر مضبوطی سے ڈٹے ہیں‘

الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…

58 minutes ago

Smriti Mandhana: کپتانی ملنے کے بعد اسمرتی مندھانا کا ہرمن پریت کور کے نام پیغام، کہا- مل کر مزید کامیابیاں حاصل کریں گے

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی نئی کپتان اسمرتی مندھانا نے سابق کپتان ہرمن پریت کور…

1 hour ago

Ajit Agarkar Farewell: ’تاریخ آپ کے ساتھ زیادہ نرمی برتے گی‘، اگرکر کی رخصتی پر گمبھیر کے ایک جملے نے کھینچی توجہ

اجیت اگرکر: چیف سلیکٹر کے عہدے سے اجیت اگرکر کے ہٹنے کے بعد گوتم گمبھیر…

1 hour ago

CM Hemant Soren Mother Passes Away: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی والدہ روپی سورین کا انتقال، سیاسی حلقوں میں سوگ کی لہر

روپی سورین کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں…

2 hours ago

Russia-Ukraine War: روس کا بڑا فضائی حملہ، کیف سمیت 12 علاقوں میں تباہی، 4 بچوں سمیت 19 افراد ہلاک

روس-یوکرین جنگ: روس نے بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں اور…

2 hours ago