شعروشاعری

Gulzar Poetry: ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے…. گلزار کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

گلزار، اصل نام سمپورن سنگھ کالرا، 18 اگست 1934 کو دینہ، ضلع جہلم میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ بچپن پنجاب کے دیہی ماحول میں گزرا، مگر تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ دہلی آ گئے۔ غربت کے دنوں میں مختلف چھوٹے موٹے کام کرتے رہے، حتیٰ کہ ممبئی میں ایک گیراج میں مکینک کے طور پر بھی کام کیا۔

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے

گلزارؔ

ادب سے لگاؤ نے جلد ہی ان کے لیے ایک نئی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ شاعری میں انہوں نے ’گلزار‘ تخلص اختیار کیا اور ترقی پسند ادیبوں کے حلقے سے وابستہ ہوئے۔ ان کی شاعری نازک احساسات، گہری رومانویت اور فلسفیانہ پہلوؤں کے لیے مشہور ہے۔ گلزار نے نظم، گیت، فلمی مکالمے، کہانیاں اور ڈرامے سبھی میں اپنی شناخت قائم کی۔ انہوں نے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں مہارت سے لکھا اور ’تروینی‘ جیسی نظم کی ایک نئی صنف بھی تخلیق کی۔

فلمی سفر کی ابتدا 1963 میں بطور گیت نگار ’بندنی‘ فلم سے ہوئی، جس کا پہلا گیت ’مورا گورا انگ لئی لے‘ آج بھی مقبول ہے۔ بعد میں انہوں نے بطور اسکرین رائٹر اور ڈائریکٹر بھی شہرت حاصل کی۔ ان کی ہدایت کاری میں بنی فلمیں جیسے ماچس، آندھی، خوشبو اور کتھا نے سماجی حقیقت نگاری اور انسانی رشتوں کی نزاکت کو منفرد انداز میں پیش کیا۔ بطور نغمہ نگار، انہوں نے مدھم مگر دل کو چھونے والی شاعری کو موسیقی میں ڈھال کر سامعین کو مسحور کیا۔ گلزار نے فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے بھی یادگار کام کیا۔ دوردرشن کے مشہور پروگرام ’جنگل بک‘ کا گیت ’چڑیا رانی بڑی سہانی‘ اور ’پوٹلی بابا کی‘ کے مکالمے آج بھی ناظرین کو یاد ہیں۔

ذاتی زندگی میں، انہوں نے اداکارہ راکھی مجمدار سے شادی کی، مگر کچھ ہی عرصے بعد علیحدگی ہو گئی۔ ان کی بیٹی میگھنا گلزار آج معروف فلم ڈائریکٹر ہیں۔ گلزار کو ادب اور فلم دونوں میں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، پدم بھوشن، گریمی اور آسکر ایوارڈ شامل ہیں۔ فلم فیئر ایوارڈز انہیں 21 مرتبہ ملے، جو ان کی طویل اور کامیاب فنی زندگی کا ثبوت ہیں۔ گلزار کی تخلیقات میں ماضی کی یاد، فطرت کی تصویریں اور انسانی رشتوں کی گرہیں سب کچھ ملتا ہے۔ وہ آج بھی لکھ رہے ہیں، گویا ان کا قلم وقت کو روک کر جذبات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔

بھارت ایکسپری اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

4 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

5 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

6 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

7 hours ago