گوتم اڈانی، جن کے کاروبار بندرگاہوں، بجلی اور سیمنٹ میں ہیں اور جو ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص ہیں، اب خاموشی سے ایک وسیع رئیل اسٹیٹ سلطنت تعمیر کر رہے ہیں جو ممبئی — دنیا کی سب سے مہنگی پراپرٹی مارکیٹوں میں سے ایک — کو بدلنے جا رہی ہے۔ 2010 سے، ان کی کمپنی “اڈانی ریئلٹی” نے احمدآباد سے لے کر ممبئی تک بھارت کے بڑے ٹیک اور مالیاتی شہروں میں اپنی موجودگی بنائی ہے۔ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق، اس وقت اس کی مالیت تقریباً 1.5 ارب ڈالر ہے۔
ان کی پراپرٹی کی توسیعی حکمت عملی دو پہلوؤں پر مبنی ہے: نقصان اٹھانے والی تعمیراتی کمپنیوں کو خریدنا، اور حکومتی ری ڈیولپمنٹ پراجیکٹس پر جارحانہ بولی لگانا — جن کی بدولت انہیں دھاراوی، جو دنیا کی سب سے بڑی جھگی بستیوں میں سے ایک ہے، کو جدید ٹاؤن شپ میں بدلنے کا حق حاصل ہوا ہے۔
ممبئی کی اہمیت
پرنو اڈانی، جو اڈانی ریئلٹی کے ایم ڈی اور گوتم اڈانی کے بھتیجے ہیں، کے مطابق ممبئی اس توسیعی منصوبے کے لیے کلیدی شہر ہے۔ دھاراوی منصوبے میں، ان کی کمپنی “نو بھارت میگا ڈیولپرز” 151 ایکڑ رقبے کی ری ڈیولپمنٹ کرے گی، جس پر تقریباً 11 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ اس علاقے کا کچھ حصہ رہائشیوں کی بحالی کے لیے استعمال ہوگا، جب کہ باقی زمین پر کمرشل فلیٹس اور دفاتر بنائے جائیں گے، جن سے اندازاً 14 ارب ڈالر کی آمدنی ہو سکتی ہے۔ اگر اوسطاً 25فیصد منافع تصور کیا جائے تو اڈانی کو اس منصوبے سے تقریباً 3 ارب ڈالر کا منافع ہو سکتا ہے، البتہ اس میں ٹیکس، سود اور دیگر اخراجات شامل نہیں۔
اس منصوبے کے تحت اڈانی صرف گھر ہی نہیں بنائیں گے بلکہ اگلے 10 سال تک ان کی دیکھ بھال بھی کریں گے۔ اگرچہ یہ منصوبہ مالی طور پر فائدہ مند نظر آتا ہے، لیکن سماجی، قانونی اور انتظامی سطح پر یہ نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ ریئل اسٹیٹ ریسرچ فرم “لیاسس فوراس” کے مطابق، یہ منصوبہ جتنا منافع بخش لگتا ہے، اتنا ہی مہنگا اور مشکل بھی ہے۔
اڈانی کا وژن اور چیلنجز
اس کے باوجود اڈانی اس منصوبے کو بھارت میں اپنی میراث بنانے کا موقع سمجھتے ہیں۔ ہنڈن برگ ریسرچ کے الزامات کے بعد جو نعرہ “We Will Deliver” سامنے آیا، وہ اب اڈانی گروپ کے اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ اگر دھاراوی میں ان کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ان کے برانڈ کو مضبوط کرے گا بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گا — خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی محکمہ انصاف ان کے خلاف مبینہ رشوت ستانی کی تحقیقات کر رہا ہے۔ تاہم، اڈانی گروپ نے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔
84 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے گوتم اڈانی اس منصوبے کو “ایک انقلابی قدم” کہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ دس لاکھ سے زائد افراد کو تنگ گلیوں سے نکال کر جدید ٹاؤن شپس میں لے جائے گا، جہاں انہیں کھلی جگہیں، بیت الخلا، اسکول، اسپتال اور دیگر ضروری سہولیات میسر ہوں گی۔
اڈانی کا مقابلہ بڑے دوسرے گروپ سے
دھاراوی کے علاوہ بھی اڈانی ریئلٹی اب ڈی ایل ایف، لوڈھا اور گوڈریج جیسی بڑی کمپنیوں سے مقابلہ کر رہی ہے۔ کمپنی مستقبل میں آئی پی او لانے کا امکان رکھتی ہے، حالانکہ اس وقت اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اڈانی نے جے پرکاش ایسوسی ایٹس جیسی کمپنیوں کو خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے، جو ان کے رئیل اسٹیٹ پورٹ فولیو کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں۔ وہ ممبئی میں کئی ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو قانونی یا مالی وجوہات کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔
2023 میں صرف 9 ملین ڈالر میں خریدی گئی “ریڈیئس اسٹیٹس” کو اب ایک بڑے 15 ٹاورز کے پراجیکٹ “Ten BKC” میں تبدیل کیا جا چکا ہے، جس پر اب تک 530 ملین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
حکومتی منصوبوں میں پیش قدمی
حالیہ برسوں میں، اڈانی ریئلٹی نے ممبئی میں کئی بڑے سرکاری منصوبے جیتے ہیں — جیسے 4.1 ارب ڈالر کا “نارتھ ممبئی ہاؤسنگ اسکیم” اور 3 ارب ڈالر کا “سی فرنٹ رہائشی منصوبہ”۔ وہ ممبئی اور نوی ممبئی ایئرپورٹس کے آس پاس کی زمین کا کمرشل استعمال بھی کر رہے ہیں۔
لیکن دھاراوی ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور موقع ہے۔ یہاں انہوں نے 50 ارب روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری کی ہے اور پہلے مرحلے میں 15,000 گھر اور دفتری جگہیں تعمیر کریں گے۔ فلم “سلم ڈاگ ملینیئر” سے شہرت پانے والا یہ علاقہ کسی بھی ڈیولپر کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج ہے، کیونکہ یہاں زمین کے حقوق پیچیدہ اور آبادی انتہائی گنجان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…
وزیر اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ایم مودی کے…
امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 31 دسمبر 2029 تک مدھیہ پردیش…
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھارت اور برازیل کے درمیان مقابلے…
ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…
اسپتال سے پہلی بار کیپٹن اسمت مچھار کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تصاویر میں…