علاقائی

Jamshedpur News: جمشید پور میں میڈیکل کالج کا خستہ حال چھجا گرنے سے تین افراد کی موت، انتظامیہ اور حکومت پر اٹھے سوال

جمشید پور: جمشید پور کے مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے کوریڈور کا چھجا گرنے سے زخمی ہونے والے تین مریض دم توڑ گئے، جب کہ دوسرے کی حالت تشویشناک ہے۔ یہ حادثہ ہفتہ کی شام تقریباً چار بجے پیش آیا۔ این ڈی آر ایف کی مدد سے ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کا کام رات ایک بجے تک جاری رہا۔

جھارکھنڈ حکومت نے حادثے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو پچاس پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حادثے میں مرنے والوں کی شناخت ساکچی کے رہنے والے 73 سالہ ڈیوڈ جانسن، 61 سالہ لوکاس سائمن تِرکی اور سرائی کیلا کے رہنے والے 65 سالہ شری چند تنتی کے طور پر ہوئی ہے۔ جن دو لوگوں کو بچایا گیا ہے ان میں رینوکا دیوی اور سنیل کمار شامل ہیں۔ ان میں رینوکا دیوی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

بتایا گیا کہ اسپتال کی تیسری منزل پر واقع میڈیسن وارڈ کا خستہ حال چھجا اچانک گر گیا۔ زوردار آواز کے ساتھ ملبہ بکھرا تو وارڈ میں کہرام مچ گیا۔ وہاں موجود لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ وارڈ کے برآمدے میں سوئے ہوئے پانچ افراد ملبے تلے دب گئے۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم کی آمد کے بعد ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع ہو سکا۔ رات 9 بجے کے قریب دو لوگوں کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ تیسرے مہلوک کی لاش کو این ڈی آر ایف کی مدد سے رات 1 بجے باہر نکالا جا سکا۔

ریاست کے وزیر صحت عرفان انصاری تقریباً 11:30 بجے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے حادثے میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی تکرار کو روکنے کے لیے ایکشن پلان بنایا جائے گا۔ اس واقعہ کو لے کر میڈیکل کالج اور اسپتال انتظامیہ، عمارت کی دیکھ بھال کا ذمہ دار محکمہ تعمیرات اور حکومت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ اسپتال کی عمارت کی خستہ حالی سے پورا سسٹم جان بوجھ کر بے خبر رہا۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران نے حادثے کا ذمہ دار حکومت اور انتظامیہ کو ٹھہرایا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے کہا کہ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جھارکھنڈ میں وزیر اعلیٰ ہوں یا وزیر، ہر کوئی بیان دینے والا ہے۔ کم از کم آج حکومت کو جاگنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایم جی ایم جیسا المناک واقعہ دوبارہ نہ ہو۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بابولال مرانڈی نے حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کی روح کی شانتی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

A Vision for Mumbai’s Future Gateway: ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر، 60 سال پرانی عمارت کی جگہ بنے گا جدید ’گیٹ وے‘

دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…

5 hours ago

TB Mukt Bharat: انڈمان و نکوبار سے ’ٹی بی مکت بھارت‘ مہم کا آغاز، ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما نے افسران و ملازمین کو دلایا عہد

انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…

5 hours ago