پنجاب اور ہریانہ کے درمیان پانی کی تقسیم کو لے کر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بھاکڑا بیاس مینجمنٹ بورڈ (BBMB) نے اپنے ڈائریکٹر آف واٹر ریگولیشن آکاش دیپ سنگھ کا، جو پنجاب کیڈر کے افسر ہیں، تبادلہ کر دیا ہے اور ان کی جگہ سنجیو کمار کو ہریانہ کیڈر سے تعینات کیا ہے۔ یہ ایک ایسا غیرمتوقع اقدام ہے جس سے دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
’’انسانی بنیادوں‘‘ پر ہریانہ کو 8,500 کیوسک پانی چھوڑنے کے BBMB کے فیصلے کے بعد پنجاب نے امن و امان کے خدشے کے درمیان ننگل ڈیم پر سیکورٹی بڑھاتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب نے بی بی ایم بی کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہریانہ نے 22 ستمبر 2024 سے 20 مئی 2025 تک موجودہ اکاؤنٹنگ سیزن کے لیے اپنے 104 فیصد پانی کا پہلے ہی استعمال کر لیا ہے۔ ایک اہلکار نے کہا کہ ایسے ماحول میں سیکورٹی میں اضافہ ایک احتیاطی اقدام ہے۔ انھوں نے کہا ’’لہٰذا، احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے، سیکورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے۔‘‘
افسران کے تبادلے سے کشیدگی میں ہوا ہے اضافہ
دریں اثنا افسران کے تبادلے نے تنازعے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دریں اثنا پنجاب کے چیف انجینئر نے بی بی ایم بی کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سنجیو کمار کو صرف ڈیم کی حفاظت کا تجربہ ہے، پانی کے ضابطے کا نہیں۔ انھوں نے اس منتقلی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق آکاش دیپ سنگھ بی بی ایم بی کے ریگولیشن مینوئل کے مطابق، پنجاب سے سرکاری انڈینٹ کی وصولی پر ہی ہریانہ کو پانی چھوڑنے پر اصرار کر رہے تھے۔ ان کی برطرفی کی وجہ اسے ہی قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی بی بی ایم بی کی ٹیکنیکل کمیٹی کے پانچ گھنٹے کے اجلاس میں پنجاب حکام کے شدید اعتراضات کے باوجود پانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے دلیل دی کہ ہریانہ نے اپنا کوٹہ پہلے ہی استعمال کر لیا ہے اور پونگ اور رنجیت ساگر ڈیموں میں پانی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے کم ہے۔ پنجاب نے خود کو الگ تھلگ پایا کیونکہ بی جے پی کے زیر اقتدار ہریانہ، راجستھان اور دہلی مبینہ طور پر پانی چھوڑنے کے حق میں رہے، جب کہ کانگریس کے زیر اقتدار ہماچل پردیش غیرجانبدار رہا۔
یہ پنجاب کے حقوق پر ڈاکہ ہے: بھگونت مان
دریں اثنا اس پیشرفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے اسے پنجاب کے حقوق پر ’’ڈکیتی‘‘ کا عمل قرار دیا۔ انھوں نے کہا ’’پنجاب بی بی ایم بی کے ذریعے ہریانہ کو پانی فراہم کرنے کے فیصلے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، جو کہ پنجاب اور پنجابیوں کا حق ہے۔ مرکز اور ہریانہ کی بی جے پی حکومت پنجاب کے خلاف متحد ہوگئی ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر بی جے پی کی طرف سے اپنے حقوق پر ایک اور ڈاکہ برداشت نہیں کریں گے۔ بی جے پی کو اپوزیشن کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بی جے پی کبھی بھی پنجاب اور پنجابیوں کی دوست نہیں ہو سکتی۔‘‘
جوابی کارروائی میں دہلی کے وزیر پانی پرویش ورما نے پنجاب حکومت پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر ہریانہ کے حصے کے پانی کو روک رہی ہے، تاکہ قومی دارالحکومت کو پانی کے سپلائی میں خلل ڈالا جا سکے۔ انھوں نے کہا ’’پنجاب حکومت نے ہریانہ اور دہلی کو پانی کی سپلائی روک کر گندی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ دہلی میں ہارنے کے بعد اب وہ دہلی میں پانی کا بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم دہلی کے ہر گھر کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔‘‘
عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں ریاست گیر احتجاج کا اعلان کیا
ہریانہ نے 21 مئی سے 31 مئی تک 8,500 کیوسک پانی مانگا ہے جب کہ پنجاب نے 8,000 کیوسک پانی کی درخواست کی ہے، جون میں کل مانگ 23,000 کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ پنجاب کے حکام کو خدشہ ہے کہ ہریانہ کو اضافی پانی دینے سے بھاکڑا ڈیم میں پانی کی سطح نیچے آئے گی، جس سے ریاست کی اپنی ضروریات بری طرح متاثر ہوں گی۔ دریں اثنا پنجاب کی حکمران عام آدمی پارٹی نے بی بی ایم بی کے فیصلے کے خلاف ریاست گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…