علاقائی

اس طرح کے پرتشدد کارروائیوں سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے: مسلم راشٹریہ منچ

نئی دہلی: احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن تشدد غداری ہے” — یہ سخت ردعمل مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کی جانب سے مغربی بنگال کے مرشدآباد اور جنوبی 24 پرگنہ میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ منچ نے اس تشدد کا براہ راست ذمہ دار ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو قرار دیا اوراپوزیشن اتحاد انڈیا اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی خاموشی کو شرمناک کہا۔منچ کا کہنا ہے کہ بھارت کے آئین اور جمہوریت کی آڑمیں اگرکوئی شخص یا گروہ تشدد پھیلائے تو وہ قوم کے ساتھ غداری کے مترادف ہے، اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’بھارت کو جوڑنے کا خواب ہر شہری کا ہے، لیکن اگراسی جوڑنے کے نام پرچند لوگ بھارت کو جلا دیں، تو یہ سب سے بڑا دھوکہ ہے۔‘‘منچ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیاررہیں اورشدت پسندوں، ووٹ بینک کی سیاست کرنے والوں اور محبت کے نام پر نفرت کی دکانیں کھولنے والوں کے اصل چہرے کو پہچانیں۔

مغربی بنگال میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بڑی تعداد میں ہندوخاندان اپنے گھر بار چھوڑ کرمالدہ ضلع میں پناہ لینے پرمجبورہو گئے ہیں۔ اسکول، کالج بند ہیں، بازار سنسان ہیں، اورعام زندگی بری طرح متاثر ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے مرکزی حکومت سے ریاست میں صدرراج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مسلم راشٹریہ منچ نے اس پورے واقعے کو ایک منظم سازش قراردیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ منچ کا کہنا ہے، ’’بھارت جیسے جمہوری ملک میں اختلاف رائے اوراحتجاج کا حق سب کو حاصل ہے، لیکن پتھراؤ، آگ زنی، قتل اور توڑ پھوڑ – یہ سب جمہوری احتجاج نہیں بلکہ کھلی غداری ہے۔‘‘

منچ نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سنگین الزامات لگائے کہ انہوں نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ شدت پسندوں کو کھلی چھوٹ دے دی۔ منچ کا دعویٰ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی اور مقامی ہندو آبادی کو جان بوجھ کر غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا، ’’جہاں دیگر ریاستوں میں وقف قانون کے خلاف کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا، وہیں بنگال میں جس انداز سے آگ زنی، لوٹ مار اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلائی گئی – وہ صرف ناکامی نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش ہے۔‘‘منچ نے انڈیا اتحاد پر بھی سوالات اٹھائے۔ ’’راہول گاندھی ہر مسئلے پر ٹویٹ کرتے ہیں، سڑکوں پر اترتے ہیں، تو جب بنگال جل رہا ہے، وہ کیوں خاموش ہیں؟‘‘ منچ نے طنز کیا کہ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کی تھی، لیکن آج بھارت جل رہا ہے اور وہ آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ منچ نے انڈیا اتحاد کے دیگر بڑے رہنماؤں جیسے اکھلیش یادو، اسٹالن، شرد پوار، ہیمنت سورین وغیرہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ کیا ان کے سیکولرازم میں ہندوؤں کا درد شامل نہیں ہے؟

منچ نے اس تشدد کو ووٹ بینک کی سیاست کا خطرناک نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ’’یہ ایک منظم سازش تھی جس میں معصوموں کو ڈھال بنا کر وقف قانون کی مخالفت کے نام پر ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچایا گیا۔‘‘ منچ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پرتشدد کارروائیوں سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

مسلم راشٹریہ منچ نے ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو اس تشدد میں شامل تھے۔ منچ نے کہا، ’’مذہب یا پہچان سے بالاتر ہو کر ملک سب سے پہلے ہے۔ جو لوگ فساد پھیلاتے ہیں، وہ بھارت کے دشمن ہیں۔‘‘ منچ نے ریاستی حکومت کے کردار کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اس واقعے کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا۔

منچ نے مرکزی حکومت، وزارت داخلہ اور قومی انسانی حقوق کمیشن سے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ منچ نے سپریم کورٹ اور کلکتہ ہائی کورٹ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مرکزی فورسز کی تعیناتی کے حکم کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اگر بروقت قدم نہ اٹھائے جاتے تو جانی و مالی نقصان کہیں زیادہ ہوتا۔

آخر میں منچ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کا احترام کریں، افواہوں سے دور رہیں اور ملک دشمن عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ منچ نے کہا، ’’اسلام امن کا دین ہے۔ تشدد، نفرت اور آگ زنی سے دین کا پیغام نہیں پھیلتا، صرف دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

7 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

7 hours ago