علاقائی

Hindu-Sindhi Pakistani: ہندو-سندھی برادری سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے نہیں ہے ہندوستان چھوڑنے کا فرمان، مہاراشٹر کا حکومت کا بڑا فیصلہ

مہاراشٹر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑن کے لیے جاری ڈیڈلائن کے درمیان ہندو-سندھی برادری سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو ریاست چھوڑنے کے لیے نہیں کہے گی، کیوں کہ ان میں سے زیادہ تر یا تو طویل مدتی ویزے پر مقیم ہیں یا پھر ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ہندوستان میں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ہندو-سندھی برادری سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو فراہم کیا جائے گا تحفظ

مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اعلان کیا ہے کہ ہندو-سندھی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو ریاست چھوڑنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت مہاراشٹر میں کل 5,053 پاکستانی شہری مقیم ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد — 2,458 — ناگپور میں، اس کے بعد جلگاؤں میں 393، نوی ممبئی میں 293، پمپری چنچواڑ میں 290، امراوتی میں 117، اور ممبئی میں صرف 14 ہیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں مرکزی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو 30 اپریل تک ہندوستان چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔ صرف مہاراشٹر میں طویل مدتی اور سارک ویزا پر 5000 پاکستانی شہری مقیم ہیں۔ ریاستی حکومت فی الحال ان افراد کی شناخت اور تصدیق کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑونویس نے کہا کہ ’’سندھی کمیونٹی کے بہت سے پاکستانی شہری مہاراشٹر میں طویل مدتی ویزوں پر مقیم ہیں، کچھ نے پہلے ہی ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دے دی ہے۔ ان ہندو-سندھی پاکستانی شہریوں کو ریاست میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم جو لوگ مختصر مدت کے ویزے پر ہندوستان اور مہاراشٹر میں ہیں، انھیں اگلے 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا یا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

حکومت کی نگرانی میں ہیں تمام پاکستانی شہری

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی شہریوں کی فہرست تیار کر کے مرکزی حکومت کو پیش کر دی گئی ہے۔ ’’ہم مہاراشٹر میں پاکستانی شہریوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور ان کا سراغ لگا رہے ہیں جو یہاں مختصر اور طویل مدتی ویزوں پر ہیں۔ مقامی پولیس اسٹیشن ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ سی ایم فڑنویس نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال مہاراشٹر میں مقیم کوئی بھی پاکستانی شہری حکومت کی جانکاری سے باہر نہیں ہے۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست میں 170 پاکستانی شہری حکومت کی جانکاری سے باہر ہیں۔

دیویندر فڑنویس نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ’’بعض اوقات افسران وزراء کو غلط بریفنگ دیتے ہیں، جس سے اس طرح کے بیانات سامنے آتے ہیں۔ یہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی غلطی نہیں ہے، بلکہ افسران کی طرف سے فراہم کردہ غلط ڈیٹا کا معاملہ ہے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ہماری تصدیق کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، کوئی ڈیٹا جاری نہیں کیا جائے گا۔ ہم اب بھی ڈیٹا درست کر رہے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

6 minutes ago

Supreme Court refuses suspend Tarun Tejpal 10 Year Sentence: ترون تیج پال کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا، 10 سال کی سزا پر روک لگانے سے انکار

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…

12 minutes ago

’نہرو کی خواہشوں نے شمال مشرق کو پیچھے چھوڑ دیا…‘ راہل گاندھی پر بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے اٹھائے بڑے سوال

نشی کانت دوبے نے اپنے بیان میں جواہرلال نہرو کی پالیسیوں پربھی سنگین سوال اٹھائے۔…

2 hours ago

Notice Movie Review: ایک سو پچاس سال پرانی دکان پر سرکاری نوٹس، نظام سے ٹکرائے ارون گوول

’نوٹس‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سماجی موضوع اور ارون گوول و دیپیکا…

2 hours ago

Shehzad Poonawalla: ’رائز اینڈ فال 2‘ کے فاتح بنے شہزاد پونا والا، جیتی 35 لاکھ روپے کی انعامی رقم

’رائز اینڈ فال 2‘ میں کامیڈین ہرش گجرال نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے خوب رنگ…

2 hours ago