علاقائی

Mamta Kulkarni: ‘اگر وہ اسلام قبول کر لیتیں…’، مہامنڈلیشور لکشمی نارائن ترپاٹھی نے ممتا کلکرنی تنازع پر دیا بیان

بالی ووڈ اداکارہ ممتا کلکرنی کو حال ہی میں مہا کمبھ میں کنر اکھاڑہ کا مہامنڈ لیشور مقرر کیا گیا تھا، تاہم تنازع کے بعد انہوں نے پیر کو مہامنڈ لیشور کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس دوران کنر اکھاڑہ کی  لکشمی نارائن ترپاٹھی، جنہوں نے ممتا کلکرنی کو مہامنڈلیشور کا خطاب دیا، نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیتیں تو یہ مذہب کے ٹھیکیدار کیا کرتے؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ کنر اکھاڑہ کا حصہ تھیں اور ہمیشہ رہیں گی۔

کنر اکھاڑہ کے آچاریہ مہامنڈ لیشور ڈاکٹر لکشمی نارائن ترپاٹھی ممتا کلکرنی کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا، ‘ممتا کلکرنی کنر اکھاڑہ کا حصہ تھیں، ہیں اور رہیں گی۔’ انہوں نے کہا کہ میں اس سے بات کر رہا ہوں۔ اگر یہ ممتا اسلام  قبول کرلیتیں  تو مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے کیا کیا ہوتا؟ تب کوئی اس بارے میں کچھ نہیں کہتا۔

مہامنڈ لیشورکے عہدے سے دیا استعفیٰ 

درحقیقت، کنر اکھاڑہ کے مہامنڈلیشور کے طور پر ممتا کلکرنی کی تقرری کی کافی مخالفت ہوئی تھی، کنر اکھاڑہ کی ایک اور مہامنڈلیشور نے اس پر سوال اٹھائے تھے اور ڈی کمپنی سے اپنے تعلق اور جیل جانے کی بات کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ اویمکتیشورانند سرسوتی، یوگا گرو بابا رام دیو اور باگیشور دھام کے  دھیریندر کرشنا شاستری نے انہیں یہ خطاب دینے پر سوال اٹھائے تھے۔

اتوار کومہامنڈ لیشور ہمانشی ساکھی نے ماں لکشمی نارائن ترپاٹھی پر قاتلانہ حملہ کرنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ ان پر حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ ممتا کلکرنی کی مخالفت کرتی تھیں۔ اس کے بعد تنازعہ بڑھتے ہی ممتا کلکرنی نے خود ہی پیر کو مہامنڈ لیشور کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے یہ جانکاری دی اور کہا کہ کنر اکھاڑہ میں میرے حوالے سے تنازعہ ہے، جس کی وجہ سے میں مہامنڈلیشور کے عہدے سے استعفی دے رہی ہوں۔ میں 25 سال سے سادھوی ہوں اور مستقبل میں بھی سادھوی رہوں گی۔

آپ کو بتا دیں کہ ممتا کلکرنی کو 24 جنوری کو کنر اکھاڑہ میں مہامنڈلیشور بنایا گیا تھا۔ اکھاڑہ کے آچاریہ لکشمی نارائن ترپاٹھی نے  پنڈدان  کریا تھا تھا۔ جس کے بعد ان کا نام شریمائی ممتا نند گری رکھا گیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Amir Equbal

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

3 hours ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

3 hours ago