جمشیدپور کے نوجوان تاجر کا اغوا۔
جمشیدپور: جھارکھنڈ کے جمشیدپور شہر کے معروف صنعتکار و تاجر دیوانگ گاندھی کے 24 سالہ بیٹے کیرو گاندھی کے اغوا کو 48 گھنٹے گزر جانے کے باوجود پولیس کو اب تک کوئی ٹھوس کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اغوا کاروں نے ایک غیر ملکی موبائل نمبر کے ذریعے خاندان سے 5 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس نمبر سے تاوان کی مانگ کی گئی ہے، وہ انڈونیشیا کا نمبر ہے۔ کیرو گاندھی کی بحفاظت بازیابی کے لیے جھارکھنڈ پولیس نے سات خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو جھارکھنڈ کے علاوہ بہار، مغربی بنگال اور اڈیشہ میں مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائیاں کر رہی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ منگل کے روز تقریباً 11:30 بجے کیرو گاندھی اپنی کریٹا کار سے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے اہلِ خانہ کو بتایا تھا کہ وہ پہلے شہر کے بسطی پور واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا جائیں گے، اس کے بعد آدتیہ پور میں اپنی کمپنی پہنچیں گے اور دوپہر کے کھانے کے لیے گھر واپس آ جائیں گے۔ حالانکہ، دوپہر 1:45 بجے تک ان کے گھر واپس نہ آنے اور موبائل فون بند ملنے پر اہلِ خانہ کی تشویش بڑھ گئی۔
پیغام میں اغوا اور تاوان کی مانگ کی اطلاع
کیرو کے والد دیوانگ گاندھی نے پولیس کو بتایا کہ وہ منگل کے روز آدتیہ پور میں ایک اہم میٹنگ میں مصروف تھے۔ اسی دوران ایک غیر ملکی نمبر (+62-831-94765544) سے ان کے واٹس ایپ پر 8 سے 10 کالز آئیں، جنہیں وہ ریسیو نہیں کر سکے۔ بعد میں اسی نمبر سے آئے پیغام میں بیٹے کے اغوا اور تاوان کی مانگ کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس متحرک ہو گئی۔
ریزورٹ کے قریب لاوارث حالت میں ملی کار
اس کے بعد شام دیر گئے مشرقی سنگھ بھوم (جمشیدپور) کے چانڈل تھانہ علاقے کے کاندر بیڑا علاقے میں این ایچ-33 پر ایک ریزورٹ کے قریب کیرو کی کار لاوارث حالت میں برآمد ہوئی۔ کار کے اگنیشن میں چابی لگی ہوئی تھی، جبکہ ان کا موبائل فون گاڑی کے نیچے زمین پر پڑا ہوا ملا۔
پولیس کے مطابق کیرو کی آخری موبائل لوکیشن جمشیدپور کے سوناری آدرش نگر علاقے کے قریب ریکارڈ کی گئی ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اغوا کاروں نے راستے میں ان کی کار کو روک کر زبردستی کسی دوسری گاڑی میں بٹھا کر انہیں اغوا کر لیا۔
پولیس مشتبہ اسکارپیو کی تلاش میں مصروف
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیرو کی کار کے آگے پیچھے ایک ہی نمبر کی اسکارپیو کئی بار گھومتی دیکھی گئی تھی۔ اس اسکارپیو پر پولیس کا بورڈ لگا ہوا تھا، لیکن جانچ میں معلوم ہوا کہ اس پر درج نمبر کسی دوسرے گاڑی کا ہے۔ پولیس اب اس مشتبہ اسکارپیو کی تلاش میں مصروف ہے۔
نمبر کے سورس کا پتہ لگا رہی ہے سائبر سیل
کار کی فورینسک جانچ کرائی جا رہی ہے اور کال ڈمپ اور سرویلنس کے ذریعے تکنیکی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ جمشیدپور اور سرائیکیلا پولیس کی مشترکہ ٹیمیں ٹول پلازا اور شہر کے تمام ایگزٹ پوائنٹس کے سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگال رہی ہیں۔ پولیس کی ایک ٹیم مسلسل خاندان کے رابطے میں ہے، جبکہ سائبر سیل انڈونیشیائی نمبر کے سورس کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
سینٹرل دہلی کے ڈی سی پی روہت راجبیر سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے نمائندوں…
دہلی پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے سی جے پی (CJP) کے بانی ابھجیت…
یونیورسٹی کے 10 فیکلٹیز کے طلبہ کو مجموعی طور پر 2,320 ڈگریاں دی گئیں، جن…
ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…
دہلی میں مظاہروں کے بعد زیر بحث آنے والی قانونی اصطلاحات کو سمجھیں، نئے فوجداری…
پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…