2025 کے کیلنڈر سال کی پہلی ششماہی کے دوران بھارت کی اسمارٹ فون برآمدات میں سال بہ سال 30 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد 4 کروڑ یونٹس تک جا پہنچی، جس کی بڑی وجہ امریکہ کو آئی فون کی بھاری مقدار میں ترسیل تھی۔ یہ اضافہ اگست کے آخر میں متوقع 25 فیصد ٹیکس کی ڈیڈ لائن سے پہلے کیا گیا، تاکہ اس سے بچا جا سکے۔ اسی عرصے میں ایپل کی برآمدات میں 53 فیصد اضافہ ہوا، اور پہلی بار H1CY25 میں یہ 2 کروڑ یونٹس سے تجاوز کر گئیں۔اس مدت کے دوران امریکہ نے بھارت کی کل اسمارٹ فون برآمدات میں سے نصف سے زیادہ درآمد کیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت چین کے متبادل کے طور پر ایپل کے لیے ایک اہم مینوفیکچرنگ اور سپلائی حب بنتا جا رہا ہے۔کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کی “میک اِن انڈیا” سروس کے مطابق H1CY25 میں بھارت سے برآمد کیے گئے اسمارٹ فونز میں سے 54 فیصد امریکہ گئے، جو پچھلے سال کی 30 فیصد شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ ان برآمدات میں تین چوتھائی سے زیادہ حصہ صرف ایپل کا تھا۔یہ تیزی اس وقت دیکھنے کو ملی جب امریکی حکومت نے 2025 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیرف کا اعلان کیا، جس کے بعد ایپل نے اپنی ترسیل تیز کر دی تاکہ منافع بچایا جا سکے اور قیمتوں میں اضافے سے بچا جا سکے۔
برآمدات میں آئی فونز نے سب سے زیادہ حصہ ڈالا، خاص طور پر آئی فون 16 نے، جو اکیلا بھارت کی مجموعی اسمارٹ فون برآمدات میں 18 فیصد کا حصہ دار رہا، اس کے بعد آئی فون 15 اور آئی فون 16e کا نمبر آیا۔ بھارت میں بڑھی ہوئی پیداوار، پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (PLI) اسکیماور مقامی فیکٹریوں کی توسیع نے اس ترقی میں مدد دی۔دوسری طرف سام سنگ کی برآمدات میں H1CY25 کے دوران صرف 1 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ یورپ اب بھی اس کی سب سے بڑی منڈی رہا، جہاں 60 فیصد سے زیادہ شپمنٹ گئی۔ تاہم، کم بنیاد کی وجہ سے امریکہ کو برآمدات میں 268 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سام سنگ کی گلیکسی A سیریز نے مجموعی برآمدات کا تین چوتھائی حصہ بنایا، جو اس کے درمیانے درجے کے فونز پر زور کو ظاہر کرتا ہے۔
موٹورولا نے حیران کن کارکردگی دکھائی، اس کی برآمدات سات گنا بڑھ کر 10 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گئیں، جس سے یہ بھارت سے برآمد کرنے والا تیسرا بڑا برانڈ بن گیا، ایپل اور سام سنگ کے بعد۔ موٹورولا کی 95 فیصد سے زیادہ برآمدات امریکہ کو ہوئیں، جن میں اس کی G-سیریز کے 2025 ماڈلز کی جلد ریلیز نے کردار ادا کیا۔ امریکہ میں موٹورولا کی فروخت میں H1CY25 کے دوران سال بہ سال 10 فیصد اضافہ ہوا، جو حریف برانڈز کی کمزور اپ گریڈ سائیکل کی وجہ سے ممکن ہوا۔
2024 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 2025 میں یورپ کی بھارت سے اسمارٹ فون درآمدات کا حصہ 47 فیصد سے گھٹ کر 27 فیصد رہ گیا، کیونکہ ایپل نے امریکہ کے لیے شپمنٹ کو ترجیح دی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایپل اور سام سنگ کی بھارت سے یورپ کے لیے گہری مینوفیکچرنگ کے باعث، یورپ ایک بار پھر اہم مارکیٹ کے طور پر ابھرے گا۔بھارت کی مقامی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ صنعت میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں اب ملک میں فروخت ہونے والے 99 فیصد اسمارٹ فونز مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کی پیداوار FY15 میں 18,900 کروڑ سے بڑھ کر FY25 میں 5.45 لاکھ کروڑ ہو گئی، جبکہ برآمدات 2 لاکھ کروڑ سے تجاوز کر گئیں۔آگے دیکھتے ہوئے، کاؤنٹرپوائنٹ کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ پالیسی کی غیر یقینی صورتحال اسمارٹ فون برآمدات کی اگلی ترقی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اگرچہ فی الحال اسمارٹ فونز اور الیکٹرانکس کو امریکہ کے نئے سخت ٹیرف (جو بھارتی اشیاء پر 50 فیصد تک جا سکتے ہیں) سے استثنیٰ حاصل ہے، یہ استثنیٰ عارضی ہے۔ اس لیے کمپنیوں کو مارکیٹس کو متنوع بنانا ہو گا، سپلائی کے خطرات سے نمٹنا ہو گا، اور PLI جیسی حکومتی اسکیموں کا فائدہ اٹھانا ہو گا تاکہ بھارت کو عالمی برآمدی مرکز کے طور پر برقرار رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…