علاقائی

Finance ministry data shows inflation at six-year low, jobs and trade stable: وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی چھ سال کی کم ترین سطح پر، نوکریاں اور تجارت مستحکم

خدمات اور صارفین کے اخراجات میں استحکام، تجارتی کارکردگی میں لچک، اور بھارت کے سرمایہ و مالیاتی کھاتوں میں اضافی سرپلس سے بھارت کی معیشت کو مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اپنی ترقی کی رفتار قائم رکھنے کے لیے خاطر خواہ گنجائش ملی ہے۔ اس ترقی کی رفتار کی بنیاد مضبوط گھریلو طلب، لچکدار تجارت، خدماتی سرگرمیوں اور جنوب مغربی مانسون کی سازگار شروعات پر ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے پیر کو پیش کی گئی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ (MER) میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں میں توسیع جاری رہی، وہیں خدمات کے شعبے نے مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے میں مدد کی۔

یہ حوصلہ افزا گھریلو منظرنامہ ایک غیر یقینی عالمی ماحول کے پس منظر میں ابھرا ہے، جو بلند اشیاء قیمتوں، بیرونی طلب میں عدم توازن، اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

مہنگائی کم ہوئی، نوکریاں بڑھیں

مہنگائی کے محاذ پر صارفین کو نمایاں ریلیف ملا ہے۔ صارف قیمت اشاریہ (CPI) سے ماپی جانے والی مجموعی مہنگائی میں تیز کمی دیکھی گئی ہے، جو بالخصوص سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئی ہے۔ جون 2025 میں خوردہ مہنگائی 77 ماہ (تقریباً 6.5 سال) کی کم ترین سطح 2.1 فیصد پر آ گئی ہے۔

روزگار کی منڈی بھی مستحکم نظر آتی ہے۔ سفید پوش نوکریوں میں سالانہ بنیاد پر دو ہندسوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رسمی نوکریوں کی تخلیق میں بھی قابل ذکر بہتری دیکھی گئی۔ ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (EPFO) نے مئی 2025 کے دوران خالص رکنیت میں تاریخ کی بلند ترین شرح درج کی۔

تجارت مستحکم، ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر

بھارت کا بیرونی شعبہ بھی مضبوط رہا۔ مال اور خدمات کا مجموعی برآمدی حجم سالانہ بنیاد پر 5.9 فیصد بڑھا، جبکہ مالی سال 2025 میں ترسیلات زر میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں یہ 135.5 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ اس آمد نے نہ صرف گھریلو صارفین کے اخراجات کو بڑھایا بلکہ مجموعی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کی۔

مالیاتی شعبہ اور آگے کی راہ

مالیاتی محاذ پر مرکزی حکومت مالیاتی استحکام کی جانب مسلسل پیش رفت کر رہی ہے، جس میں اخراجات کے معیار کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ آمدنی کا حصول مستحکم ہے، اور ریاستوں کو سرمایہ جاتی اخراجات و اثاثہ جات کی تعمیر کے لیے دی جانے والی گرانٹس مالی سال 2022 سے مالی سال 2026 تک دگنی ہونے کی توقع ہے۔

کچھ احتیاطی پہلو

مجموعی طور پر مثبت منظرنامے کے باوجود، وزارتِ خزانہ نے کچھ خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ قرضوں میں اضافہ سست ہے، اور نجی سرمایہ کاری کی خواہش بھی کمزور ہے، حالانکہ مانیٹری پالیسی میں نرمی اور بینکوں کی مضبوط مالی صورتحال موجود ہے، جو کہ قرض لینے والوں کی محتاط روش کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی محصولات کی پالیسیوں سے جڑی غیر یقینی صورتحال آئندہ سہ ماہیوں میں بھارت کی تجارتی کارکردگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔

پھر بھی، وزارت کو یقین ہے کہ بھارتی معیشت مالی سال 2026 تک اپنی مستحکم ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Special Camp for SIR in Delhi’s Ranjit Nagar: دہلی کے رنجیت نگر میں ایس آئی آر کو لے کر خصوصی کیمپ، بی ایل او اور افسران کر رہے مسائل کا حل

مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…

15 minutes ago

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

3 hours ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

3 hours ago