تصویر: روئٹرز
ایک معمر شخص، مبینہ طور پر ایک پاکستانی، بدھ کو پنجاب کے امرتسر کے قریب اٹاری-واگھہ بارڈر کے ذریعے ہندوستان سے ڈی پورٹ کیے جانے کے دوران انتقال کر گیا۔ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق عبدالوحید بھٹ نامی یہ شخص 1980 سے بھارت میں مقیم تھا اور اس کی عمر 80 سال کے لگ بھگ تھی۔ وہ 60 سے 70 افراد کے اس گروپ کا حصہ تھا جنھیں پولیس پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے جموں سے اٹاری بارڈر پر لائی تھی۔
22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے ملک میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کو 27 اپریل تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا خدمات بھی فوری طور پر معطل کر دی تھیں۔ دی انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ عبدالوحید بھٹ، جو مبینہ طور پر فالج میں مبتلا تھا، بدھ کو شدید بیمار ہو گیا اور اٹاری میں انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کے باہر کھڑی بس کے اندر ہی اس کی موت ہو گئی۔ خبر کے مطابق اسے بس کے اندر ہی رہنے کے لیے کہا گیا تھا، کیوں کہ ہندوستانی حکام اس بارے میں پر یقین نہیں تھے کہ اسے ڈی پورٹ کرنے کے لیے درست دستاویزات موجود ہیں یا نہیں۔
اخبار نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ’’جموں و کشمیر پولیس کچھ ایسے افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے لائی ہے، جن کے پاس پاکستانی پاسپورٹ یا دہلی میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے مطلوبہ سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ ہم ایسے لوگوں کر ملک بدر نہیں کر سکتے،جن کے پاس ان دونوں میں کوئی بھی ایک دستاویز نہیں ہے۔‘‘ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق سری نگر میں غیر ملکی رجسٹریشن آفس کی طرف سے بھٹ کو 25 اپریل کو باضابطہ ’’بھارت چھوڑنے کا نوٹس‘‘ جاری کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ 1980 میں اپنے ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ بھٹ اکیلے سفر کر رہے تھے کیوں کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ واضح رہے کہ کم از کم 537 پاکستانی 27 اپریل کو ڈیڈ لائن کے اختتام تک اٹاری-واگھہ بارڈر کے ذریعے پاکستان واپس گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کوریا کی سیونگ سویون کو 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں داخل ہونے…
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…