علاقائی

Chidambaram on Delimitation Bill: ’این سی پی (ایس پی) اور ڈی ایم کے پر بی جے پی کی نظر‘، حد بندی بل پر چدمبرم کا دعویٰ، کیا ہے دو تہائی اکثریت کا ہندسہ؟

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہونے جا رہا ہے، لیکن اس سے قبل کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر داخلہ پی۔ چدمبرم نے بی جے پی کے مبینہ منصوبے سے متعلق  بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت اس اجلاس میں 131واں آئینی ترمیمی بل دوبارہ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ چدمبرم نے الزام لگایا کہ بی جے پی اس بل کو منظور کرانے کے لیے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) یعنی این سی پی (ایس پی) اور دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ڈی لمیٹیشن لانے کی تیاری میں میں بی جے پی- چدمبرم

پی۔ چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں یہ آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا تھا، لیکن اب اسے دوبارہ لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس بل کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کے مقصد سے پیش کیا، تاہم اس کے پیچھے اصل مقصد لوک سبھا حلقوں کی نئی حد بندی (Delimitation) اور انتخابی حلقوں کی سرحدوں میں سیاسی فائدے کے مطابق تبدیلی کرنا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ کسی بھی آئینی ترمیمی بل کو قانون بنانے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ خواتین کو ریزرویشن دینے کا انتظام پہلے ہی 106ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کیا جا چکا ہے، اس لیے اسی مقصد سے ایک نئے آئینی ترمیمی بل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

پہلے ہو چکی ہے ترمیم

کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد اب بی جے پی این سی پی (ایس پی) اور ڈی ایم کے کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بل کی منظوری کے لیے مطلوبہ تعداد پوری کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں جماعتیں پہلے بھی اس بل کے اصل مقصد کو سمجھ چکی ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ اپنے سابقہ مؤقف پر قائم رہیں گی۔

لوک سبھا میں 850 نشستوں کی تجویز

پی۔ چدمبرم نے مزید دعویٰ کیا کہ مجوزہ حد بندی سے ان ریاستوں کو نقصان ہوگا جنہوں نے قومی آبادی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے آبادی پر قابو رکھا ہے۔ ان کے مطابق ایسے ریاستوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے رواں سال اپریل میں لوک سبھا میں 131واں آئینی ترمیمی بل پیش کیا تھا، جس میں لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے اور ملک بھر میں انتخابی حلقوں کی ازسرِ نو حد بندی کی تجویز شامل تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

2 hours ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

12 hours ago