فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز یعنی ایف پی اوز بڑی کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کم از کم زرعی وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ زرعی وزارت کے مطابق 10 ہزار ایف پی اوز میں سے 340 سے زائد یونٹس نے کاروبار میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ان یونٹس نے ہر سال 10 کروڑ روپے سے زیادہ کی فروخت کا ہدف حاصل کیا ہے، جب کہ 1100 یونٹس ایسے ہیں ،جن کا سالانہ کاروبار ایک کروڑ روپے سے زائد ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بڑا رول ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بڑی مدد
تیزی سے ترقی کرنے والے ایف پی اوز نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (ONDC)، الیکٹرانک نیشنل ایگریکلچر مارکیٹ (e-NAM) اور گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (GeM) جیسے پلیٹ فارمز کا مؤثر استعمال کیا اور اپنی پوزیشن کو بہتر بنایا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں مرکزی حکومت کی اسکیم کے تحت بنائے گئے کئی کسان گروپس نے کم از کم امدادی قیمت (MSP) پر تلہن، دالیں اور اناج خرید کر اپنے کاروبار کو وسعت دی ہے۔
“فنانشل ایکسپریس” نے ایک حکام کے حوالے سے لکھا ہے:”ہم اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایف پی اوز کو اعزاز دینے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ دیگر تنظیموں کو بھی اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ترغیب ملے۔”
اس وقت 9000 سے زائد ایف پی اوز سرکاری ای-کامرس پلیٹ فارم ONDC سے منسلک ہیں، جب کہ 200 سے زائد گروپس GeM جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایمیزون اور فلیپ کارٹ جیسے ای-کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی زرعی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر فروخت شروع ہو چکی ہے۔
دالیں، شہد، باجرہ تک کی فروخت
گجرات کے بابرا کھیدوت پروڈیوسر اینڈ روپآنتر سہکاری منڈلی ایف پی او نے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے اپنے اراکین سے ایم ایس پی پر مونگ پھلی اور کپاس کی خریداری کے ذریعہ 102 کروڑ روپے کا کاروبار درج کیا ہے۔ اس ایف پی او کے 1,465 ممبران ہیں۔ گروپ کے سی ای او نیرَو پرکاش بھائی متھوکیہ نے اخبار کو بتایا کہ یہ ایف پی او موجودہ مالی سال میں زرعی ان پٹ کے کاروبار میں توسیع کرے گا تاکہ مزید ترقی حاصل کی جا سکے۔
موجودہ نظام کے تحت فعال ایف پی اوز مختلف پلیٹ فارمز پر چاول، دالیں، باجرہ، شہد، مشروم، مصالحے اور ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی 200 اقسام سمیت ہزاروں زرعی اور متعلقہ اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔ کاروباری مواقع کو فروغ دینے کے لیے ایف پی اوز کو بیج، کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے کئی ان پٹ لائسنس اور ڈیلرشپس دی جا رہی ہیں، جس سے انہیں ان پٹ کاروبار چلانے اور مالی استحکام حاصل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
آغاز 2020 میں ہوا تھا
ایف پی اوز مختلف قوانین جیسے کمپنی ایکٹ 2013، متعلقہ ریاستوں کے کوآپریٹو ایکٹس یا ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں۔ ایف پی او اسکیم کا آغاز 29 فروری 2020 کو مرکزی حکومت نے کیا تھا۔ اس اسکیم کو سال 2027-28 تک 6,865 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ آغاز کے بعد سے، 4,761 ایف پی اوز کو 254.4 کروڑ روپے کی ایکویٹی گرانٹ دی گئی ،جب کہ 1,900 ایف پی اوز کو 453 کروڑ روپے کا کریڈٹ گارنٹی کور بھی فراہم کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ…
کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…
وزیر اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ایم مودی کے…
امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 31 دسمبر 2029 تک مدھیہ پردیش…
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھارت اور برازیل کے درمیان مقابلے…
ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…