سیاست

Petition filed in SC on Ahmedabad plane crash: احمد آباد طیارہ حادثے پر سپریم کورٹ میں عرضی، حقائق کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ

لندن جانے والی ایئر انڈیا کی بوئنگ 787 ڈریم لائنر پرواز کے احمد آباد سے پرواز کے دوران پیش آئے حادثے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک عوامی مفاد کی عرضی (PIL) دائر کی گئی ہے۔ یہ حادثہ 12 جون 2025 کو پیش آیا تھا، جس میں 260 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ حادثے کے بعد تحقیقات شروع کی گئی تھیں، لیکن عرضی گزار کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات نامکمل اور جانبدارانہ ہیں۔ سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس تحقیقات کی نگرانی آزاد ماہرین سے کروائی جائے اور تمام حقائق کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

حادثے کے بعد اٹھے سوالات

ایئر انڈیا کا یہ طیارہ احمد آباد سے پرواز کے چند منٹ بعد ہی ایک قریبی بستی پر گر گیا تھا۔ اس حادثے میں 229 مسافر، 12 کریو ممبرز، اور 19 مقامی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کرنے والی ایجنسی نے جو ابتدائی رپورٹ جاری کی، اس میں کئی اہم پہلوؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔
مثال کے طور پر:بلیک باکس سے حاصل شدہ مکمل ڈیٹا شیئر نہیں کیا گیا،کاک پٹ کی گفتگو کا مکمل ٹرانسکرپٹ جاری نہیں کیا گیا،رپورٹ میں براہ راست پائلٹ کو مورد الزام ٹھہرایا گیا، جب کہ طیارے کی تکنیکی خرابیوں اور سسٹم میں ممکنہ گڑبڑیوں کی صحیح طریقے سے جانچ نہیں کی گئی

عرضی میں پیش کی گئی اہم مانگیں

یہ عرضی سیفٹی میٹرز فاؤنڈیشن” نامی ایک ادارے نے دائر کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس حادثے کو صرف پائلٹ کی غلطی کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ سے درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں:

مرکزی حکومت اور متعلقہ ایجنسیوں کو حکم دیا جائے کہ:طیارے سے متعلق تمام تکنیکی ڈیٹا،فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR)،کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) کی مکمل معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں

  1. بین الاقوامی معیار کے آزاد ماہرین کو اس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے مقرر کیا جائے۔
  2. عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایسے حادثات کی تحقیق کا مقصد صرف ذمہ داری طے کرنا نہیں بلکہ مستقبل کی پروازوں کی حفاظت یقینی بنانا بھی ہونا چاہیے۔ اگر تمام حقائق نظرانداز کیے گئے تو یہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی، بلکہ آئندہ ہوائی سفر کرنے والے لاکھوں لوگوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔

تحقیقات کی ساکھ پر سوالات

عرضی میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں شامل زیادہ تر افسران وہی ہیں جو ان ہی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی کارکردگی پر پہلے سے سوال اٹھ رہے ہیں۔
ڈی جی سی اے (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن) کے افسران بھی اس کمیٹی میں شامل ہیں، جب کہ یہی ادارہ طیاروں کی تکنیکی جانچ اور سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا ذمہ دار ہے۔

اگر وہی افسران تحقیقاتی ٹیم میں ہوں گے، تو شفافیت اور غیرجانبداری پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔

سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

عرضی گزار ادارے نے کہا ہے کہ بھارت نے ایک بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق ہوائی حادثات کی تفتیش آزاد اور غیرجانبدار ہونی چاہیے۔ لیکن اس کیس میں ابتدائی رپورٹ نے نہ تمام حقائق کو ظاہر کیا اور نہ ہی کوئی سیفٹی سے متعلق سفارشات پیش کی گئیں۔
اسی بنیاد پر سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملے اور مستقبل میں اس طرح کے المناک حادثات دوبارہ نہ ہوں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

2 hours ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

3 hours ago