سیاست

New Income Tax Bill is through, will replace six-decade-old Income Tax Act: نیا انکم ٹیکس بِل منظور، چھ دہائیوں پرانے انکم ٹیکس ایکٹ کی جگہ لے گا

پارلیمنٹ نے منگل کے روز نیا انکم ٹیکس بِل منظور کر لیا ہے، جو چھ دہائیوں پرانے انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی جگہ لے گا۔ اس بِل کا مقصد براہِ راست ٹیکس کے قانون کو پڑھنے، سمجھنے اور نافذ کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔راجیہ سبھا نے پارلیمانی طریقہ کار کے تحت یہ قانون لوک سبھا کو آواز کی ووٹنگ کے ذریعے واپس کر دیا۔نئے بِل میں “ٹیکس سال” کا تصور متعارف کروایا گیا ہے، جو مالی سال اور اسسمنٹ سال کی جگہ لے گا تاکہ ابہام کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ‘ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں’ کی تعریف کو وسیع کیا گیا ہے، جس میں کرپٹو اثاثے، نان فنجیبل ٹوکنز (NFTs) اور دیگر ڈیجیٹل اثاثے شامل ہیں جیسا کہ حکومت وضاحت کرے گی۔یہ بِل ٹیکس دہندگان کے لیے یہ بھی لازم قرار دیتا ہے کہ تلاشی کے دوران وہ اپنے ورچوئل اسپیسز جیسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ای میل سرورز اور کلاؤڈ اسٹوریج تک رسائی فراہم کریں۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (CBDT) تلاشی کے دوران ڈیجیٹل ڈیٹا کو ہینڈل کرنے کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز جاری کرے گا تاکہ ٹیکس دہندگان کی پرائیویسی کا تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپیوٹر سسٹمز کو نئے قانون کے مطابق یکم اپریل 2026 تک “ریبوٹ” کرنا ہوگا۔انہوں نے ایوانِ بالا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا:”یہ تبدیلیاں سطحی نہیں ہیں، بلکہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن کے ایک نئے اور سادہ نقطۂ نظر کی عکاسی کرتی ہیں۔ نیا قانون زیادہ مربوط، واضح اور قابلِ فہم بنایا گیا ہے۔”انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اتنے اہم قانون پر بحث میں شامل نہیں ہو رہی، حالانکہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں دونوں ایوانوں میں 16 گھنٹے کی بحث پر اتفاق ہو چکا تھا۔

سیتارمن نے کہا:”مجھے حیرت ہے کہ اپوزیشن اس میں شریک ہونا ہی نہیں چاہتی۔”منگل کے روز راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے واک آؤٹ کیا، جیسا کہ وہ پچھلے دن لوک سبھا میں کر چکی تھیں۔

یہ بِل پہلے ہی لوک سبھا سے منظور ہو چکا تھا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بِل کا بروقت منظور ہونا ضروری ہے کیونکہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو اپنا کمپیوٹر سسٹم اپ گریڈ کرنا ہے اور حکومت کو اگلے سال یکم اپریل سے نیا قانون نافذ کرنا ہے، جس کے لیے وقت بہت کم ہے۔انہوں نے 2025 کا “ٹیکسیشن لاز (ترمیمی) بِل” بھی راجیہ سبھا میں پیش کیا، جو منظور ہو چکا ہے۔ اس بِل کے ذریعے سعودی عرب اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈز کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے، یونائیفائیڈ پنشن اسکیم کے سبسکرائبرز کو جزوی رقم نکالنے پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے تاکہ اسکیم کو مزید پرکشش بنایا جا سکے، اور تلاش و ضبطی کے دوران بلاک اسسمنٹ میں ’آمدنی‘ کی تعریف میں ترمیم کی گئی ہے۔

یہ تبدیلیاں بھی نئے انکم ٹیکس بِل میں شامل ہیں۔
سیتارمن نے کہا:”عام طور پر ٹیکس میں ترمیم فنانس بِلز کے ذریعے کی جاتی ہے، ہم اگلے سال کے فنانس بِل کا انتظار کر سکتے تھے، لیکن معیشت کی رفتار دیکھتے ہوئے سب چاہتے ہیں کہ یہ کام جلد ہو جائے… دیکھیں حالات کتنی تیزی سے بدل رہے ہیں۔”

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

1 hour ago

TMC Symbol Freez Case: ٹی ایم سی نام اور انتخابی نشان تنازع: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، کتنے وقت میں ہوگا فیصلہ؟

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…

2 hours ago

Greater Noida Bus Fire: گریٹر نوئیڈا بس حادثہ: امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے کیا اظہارِ افسوس

یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…

2 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، وزیر اعظم نریندر مودی نے روشیبینا دیوی، ستنم سنگھ اور سلمان خان کو دی مبارکباد

ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…

3 hours ago