سیاست

CJI Sanjiv Khanna Oath: جسٹس سنجیو کھنہ ملک کے 51 ویں چیف جسٹس بنے، صدر دروپدی مرمو نے دلایا حلف

صدر دروپدی مرمو نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں جسٹس سنجیو کھنہ  کوعہدے کا حلف دلایا۔ جسٹس کھنہ ملک کے 51 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا ۔ ان کی مدت ملازمت 13 مئی 2025 تک ہوگی یعنی تقریباً 6 ماہ۔ وہ انتخابی بانڈ اسکیم کو ختم کرنے اور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے جیسے کئی تاریخی فیصلوں کا حصہ رہے ہیں۔

دہلی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی

جسٹس سنجیو کھنہ نے ماڈرن اسکول اورسینٹ سٹیفن کالج دہلی سے تعلیم حاصل کی۔ دہلی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے 1983 میں تیس ہزاری کورٹ، دہلی میں قانون کی پریکٹس شروع کی۔ وہ 2005 میں دہلی ہائی کورٹ کے جج بنے۔ جنوری 2019 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ انہیں فوجداری، دیوانی، ٹیکس اور آئینی قوانین کا بڑا ماہر سمجھا جاتا ہے۔

والد دہلی ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں

جسٹس ایچ آر کھنہ نے 1976 میں ایمرجنسی کے دوران حکومت کے خلاف تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ 5 ججوں کی بنچ میں وہ واحد جج تھے، جنہوں نے کہا تھا کہ ہنگامی حالات میں بھی شہریوں کی ذاتی آزادی کے بنیادی حق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے اس وقت کی اندرا گاندھی نے ان کے بجائے  ان سے جونیئر جج کو چیف جسٹس بنایا تھا۔ اس کے بعد جسٹس ایچ آر کھنہ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

کئی بڑے فیصلوں کا اعلان کیا گیا

جسٹس سنجیو کھنہ نے اب تک سپریم کورٹ میں اپنے دور میں کئی بڑے فیصلے لیے ہیں۔ انہوں نے اس وقت کے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو لوک سبھا انتخابی مہم کے لیے عبوری ضمانت دی تھی۔ منیش سسودیا کو ضمانت دیتے ہوئے کہا گیا کہ پی ایم ایل اے ایکٹ کی سخت دفعات کسی کو بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک جیل میں رکھنے کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔

26 اپریل کو لوک سبھا انتخابات کے دوران، انہوں نے ووٹوں کی گنتی میں VVPAT اور EVM کے 100 فیصد میچنگ کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ  انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ امیدوارانتخابی نتائج کے 7 دن کے اندر دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں انجینئرز مائیکرو کنٹرولر میموری کو چیک کریں گے۔ امیدوار اس عمل کے اخراجات برداشت کرے گا۔

جسٹس سنجیو کھنہ اس بنچ کے رکن تھے جس نے انتخابی بانڈز کوغیرآئینی قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ اگر شادی کا جاری رہنا ناممکن ہے تو سپریم کورٹ براہ راست اپنی خصوصی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے طلاق کا حکم دے سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ چیف جسٹس کا دفتر حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے دائرہ کار میں ہوگا۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

8 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

9 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

10 hours ago