سیاست

Jammu Kashmir rajya sabha election 2025: جموں و کشمیر راجیہ سبھا انتخابات میں بڑھیں سیاسی سرگرمیاں، بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان سخت مقابلہ

بی جے پی نے اتوار کے روز اپنے تین امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے، جن میں جموں و کشمیر یونٹ کے صدر ستپال شرما، غلام محمد میر اور راکیش مہاجن شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے ان چاروں نشستوں کے لیے تین علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابی عمل میں مرحلہ وار یا علیحدہ علیحدہ طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

https://twitter.com/BJP4India/status/1977265686503424162?ref_src=twsrc%5Etfw  

نیشنل کانفرنس-کانگریس اتحاد بمقابلہ بی جے پی

اسمبلی میں عددی اعتبار سے نیشنل کانفرنس-کانگریس اتحاد کو تین نشستوں پر برتری حاصل ہے، جبکہ بی جے پی کو ایک نشست پر سبقت ملنے کا امکان ہے۔تاہم بی جے پی کی نظر تینوں نشستوں پر ہے، اور وہ دیگر جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔اسی وجہ سے یہ انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ بنتا جا رہا ہے۔

این سی نے بھی امیدواروں کا اعلان کر دیا

نیشنل کانفرنس نے بھی اپنی طرف سے تین امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ چوتھی نشست کے لیے کانگریس سے بات چیت جاری ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنے اراکینِ اسمبلی پر سخت نظر رکھنی شروع کر دی ہے تاکہ کراس ووٹنگ نہ ہو سکے۔

جموں و کشمیر اسمبلی میں عددی صورتحال

جموں و کشمیر اسمبلی کی کل 90 نشستوں میں نیشنل کانفرنس کے پاس 41 ارکان، بی جے پی کے پاس 28، کانگریس کے 6، پی ڈی پی کے 3، سی پی آئی (ایم)، پیپلز کانفرنس اور عام آدمی پارٹی کے پاس 1، 1 رکن ہے۔ 7 ارکان آزاد ہیں جبکہ 2 نشستیں خالی ہیں۔

دو نشستوں پر سخت مقابلہ

اس سیاسی مساوات کے مطابق نیشنل کانفرنس آسانی سے دو نشستیں جیت سکتی ہے، لیکن باقی دو نشستوں پر مقابلہ کافی سخت ہو گیا ہے۔ بی جے پی کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی کو اپنے حق میں کر کے انتخابی اعداد و شمار کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے  گی— یہی چیز ان انتخابات کو مزید سنجیدہ اور پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اس بار کا راجیہ سبھا انتخاب جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام ریاست بننے کے بعد پہلا راجیہ سبھا انتخاب ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں اب 24 اکتوبر کی ووٹنگ پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ یہی دن طے کرے گا کہ کس پارٹی کا پلڑا بھاری رہتا ہے اور آنے والے وقت میں جموں و کشمیر کی پارلیمانی سیاست کس سمت جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

20 minutes ago

Flipkart-Amazon Sale 2026: فلیپ کارٹ اور ایمیزون کی سب سے بڑی تہوار سیل شروع، آئی فون سے لیپ ٹاپ اور ٹی وی تک بمپر آفرز

انڈین فیسٹیول 2026: فلیپ کارٹ بگ بلین ڈیز اور ایمیزون گریٹ انڈین فیسٹیول سیل شروع…

3 hours ago