سیاست

India Bloc nominates Ex-Supreme Court Judge B Sudershan: انڈیا اتحاد کے نائب صدر کے امیدوارسدرشن  ریڈی آج داخل کریں گے نامزدگی، سونیا گاندھی ہوں گی تجویز کنندہ

نائب صدر کا انتخاب: اپوزیشن کے نائب صدر کے امیدوار، سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ جسٹس بی. سدرشن ریڈی جمعرات کو اپنا نامزدگی فارم داخل کریں گے۔ 21 اگست نامزدگی کی آخری تاریخ ہے، جب کہ 25 اگست تک امیدواری واپس لی جا سکتی ہے۔ انتخاب 9 ستمبر کو ہوگا، اور اسی دن ووٹوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔اپوزیشن کے نائب صدر کے عہدے کے امیدوار بی سدرشن ریڈی آج یعنی جمعرات کی صبح ساڑھے گیارہ بجے نامزدگی داخل کریں گے۔ سونیا گاندھی، ملکارجن کھڑگے، راہول گاندھی اور رام گوپال یادو سمیت انڈیا بلاک کے کئی رہنما موجود ہوں گے۔ اپوزیشن کے 80 ارکانِ پارلیمنٹ نے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے طور پر دستخط کیے ہیں، جن میں سونیا گاندھی کا نام بھی شامل ہے۔

سدرشن ریڈی کے سامنے سی پی رادھا کرشنن
سدرشن ریڈی ، گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور گوا کے پہلے لوک آیوکت بھی رہ چکے ہیں۔ وہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2007 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ ریڈی کا براہ راست مقابلہ این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن سے ہوگا۔ دونوں امیدوار جنوبی بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ رادھا کرشنن نے بدھ کے روز اپنی نامزدگی داخل کی تھی۔ دراصل، نائب صدر کا یہ انتخاب جگدیپ دھنکھڑ کے 21 جولائی کو استعفیٰ دینے کے بعد ہو رہا ہے، حالانکہ ان کی مدت 10 اگست 2027 تک تھی۔

نامزدگی سے قبل، یعنی بدھ کو ‘انڈیا اتحاد’ کے رہنماؤں نے بی. سدرشن ریڈی کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی۔ یہ تقریب پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے سنٹرل ہال میں ہوئی، جہاں ریڈی کو باقاعدہ خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان کی امیدواری کو ایک تاریخی اور اہم قدم قرار دیا۔

کھڑگے کی ایکس پر پوسٹ
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا:سابق جسٹس بی سدرشن ریڈی انصاف سے اپنی اٹل وابستگی کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے سماجی، اقتصادی اور سیاسی مساوات کے لیے بے خوفی سے کام کیا اور ایسے تاریخی فیصلے دیے جنہوں نے ہمارے جمہوریت کو مضبوط کیا۔ یہ نائب صدر کا انتخاب صرف ایک عہدے کے لیے نہیں، بلکہ ہماری قوم کی روح کے لیے ایک نظریاتی جدوجہد ہے۔ جہاں حکمران جماعت نے آر ایس ایس کی سوچ کو چُنا ہے، وہیں ہم آئین اور اس کی اقدار کو اپنا رہنما مانتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا، “سدرشن ریڈی اُن ابدی اقدار کی علامت ہیں جنہوں نے بھارت کی تحریکِ آزادی کو قوت دی، اور جو ہمارے آئین کی بنیاد ہیں۔ جب ہمارے جمہوری ادارے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، تب ان کی امیدواری راجیہ سبھا کے کام کاج میں غیر جانبداری، دیانتداری اور وقار کی بحالی کے لیے ایک عزم ہے۔ بھارت کے جمہوری ڈھانچے کی ساکھ اس بات پر منحصر ہے کہ پارلیمان ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے، جہاں ارکانِ پارلیمان آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے عوام کے مسائل اور اُمنگوں کا اظہار کر سکیں۔”

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rahul Gandhi First Reaction After Detained: حراست سے رہائی کے بعد راہل گاندھی کا پہلا ردعمل، کہا-پارلیمنٹ، سڑک اور جنتر منتر پر مضبوطی سے ڈٹے ہیں‘

الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…

33 seconds ago

Smriti Mandhana: کپتانی ملنے کے بعد اسمرتی مندھانا کا ہرمن پریت کور کے نام پیغام، کہا- مل کر مزید کامیابیاں حاصل کریں گے

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی نئی کپتان اسمرتی مندھانا نے سابق کپتان ہرمن پریت کور…

19 minutes ago

Ajit Agarkar Farewell: ’تاریخ آپ کے ساتھ زیادہ نرمی برتے گی‘، اگرکر کی رخصتی پر گمبھیر کے ایک جملے نے کھینچی توجہ

اجیت اگرکر: چیف سلیکٹر کے عہدے سے اجیت اگرکر کے ہٹنے کے بعد گوتم گمبھیر…

27 minutes ago

CM Hemant Soren Mother Passes Away: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی والدہ روپی سورین کا انتقال، سیاسی حلقوں میں سوگ کی لہر

روپی سورین کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں…

1 hour ago

Russia-Ukraine War: روس کا بڑا فضائی حملہ، کیف سمیت 12 علاقوں میں تباہی، 4 بچوں سمیت 19 افراد ہلاک

روس-یوکرین جنگ: روس نے بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں اور…

1 hour ago