اتر پردیش کے فتح پور میں مقبرہ-مندر تنازع پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبرے کے اندر سے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ،ان میں واضح طور پر تشدد ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے، لیکن پولیس نے بی جے پی کے ضلعی صدر اور ہندوتو تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔ ان کے خلاف تو ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔ اگر ہنگامہ کرنے والے مسلمان ہوتے تو ان کے سینے پر گولی مار دی جاتی۔
عمران مسعود نے کہا کہ ہنگامہ اور توڑ پھوڑ کرانے کے بعد اب وہ اسے “خوشگوار انداز میں حل کرنے” کی بات کر رہے ہیں۔ ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سماج میں نفرت نہ پھیلائیں۔ ورنہ آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایسی سیاست سے سماج تقسیم ہو جائے گا۔
دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس معاملے پر کہا کہ فتح پور میں پیش آیا واقعہ بی جے پی کے تیزی سے زوال کی علامت ہے۔ جب جب بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کی اصلیت سامنے آنے لگتی ہے، تب تب ہم آہنگی بگاڑنے کی سازش کی جاتی ہے۔ عوام اب اس بی جے پی چال کو سمجھ چکی ہے۔ اب ایسی حرکتوں سے عوام نہ بہکے گی اور نہ ہی بھٹکے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس واقعے کے مجرموں کی شناخت لکھنؤ کے ڈرون کریں گے یا دہلی والوں کے ڈرون ۔
ادھر بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس مسئلے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا: “یوپی کے ضلع فتح پور میں مقبرہ اور مندر ہونے کے معاملے پر جاری تنازع/ہنگامے پر حکومت کو کسی بھی کمیونٹی کو ایسا کوئی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو اور آپسی بھائی چارہ و ہم آہنگی متاثر ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدام اٹھائے۔”
اس پورے تنازع پر یوپی کے ڈپٹی سی ایم برجیش پاٹھک نے کہا کہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کی پالیسی ہمیشہ سے ہی “لڑاؤ اور حکومت کرو” رہی ہے۔ اکھلیش یادو کے بیان کا جواب دیتے ہوئے پاٹھک نے ایس پی پر سماج کو بانٹنے اور ماحول بگاڑنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا عزم ہے – کسی کی خوشنودی نہیں، سب کی بہتری۔ ایس پی اپنے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنا چاہتی ہے۔ فی الحال فتح پور کی صورتِ حال معمول پر ہے اور حکومت قانون و انتظام پر چوکسی برت رہی ہے۔
اتر پردیش کے ضلع فتح پور کے علاقے ابونگر میں بجرنگ دل سمیت کئی ہندو تنظیموں کے کارکن اور دیگر افراد ایک قدیم مقبرے کے احاطے میں داخل ہو گئے اور دعویٰ کیا کہ یہ دراصل ایک مندر ہے۔ انہوں نے یہاں پوجا پاٹھ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ کچھ مظاہرین کو ڈھانچے میں لاٹھیوں سے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ علاقے میں پولیس تعینات ہے۔ بجرنگ دل نے اس ڈھانچے کو مندر قرار دیتے ہوئے وہاں پوجا کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم فریق کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس پتھراؤ میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔ انتظامیہ نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کر دیے ہیں۔
فتح پور ضلع بجرنگ دل کے معاون کنوینر دھرمیندر سنگھ کا کہنا ہے:”ہم پوجا کرنے جا رہے تھے اور ہم پوجا کریں گے۔ انتظامیہ ہمیں روک نہیں سکتی۔ پوجا کرنا ہمارا حق ہے، اور ہم ہندو مذہب میں پیدا ہوئے ہیں، پوجا کا حق لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ ہمیں ہمارے حق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ وہ ہمارا مندر ہے، اور جو لوگ اس مندر کو مقبرہ بتا رہے ہیں، ان کا علاج کرنے کے لیے یہاں ہجوم جمع ہوا ہے۔ ہم ان کو سمجھانے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ہمارے مندر کو چھوڑ دو اور ہمیں راستہ دو، اگر راستہ نہیں ملا تو ہم ایسے طوفان ہیں جو خود راستہ بناتے ہیں۔ ہمیں کوئی بیریکیڈ نہیں روک سکتا۔”
بھارت ایکسپریس اردو
اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس…
پنڈھری ناتھ علاقے میں بدریناتھ مندر اور تھانے کے سامنے پیش آیا واقعہ، کوئی جانی…
چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…
اکھلیش یادو کی موجودگی میں لیڈروں کے درمیان تلخ کلامی اور گالی گلوچ، دونوں اضلاع…
دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد…
نابالغ لڑکے اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر سیاست گرم، جے ڈی یو…