سیاست

Amit Shah on Jagdeep Dhankhar: جگدیپ دھنکڑ کے استعفیٰ پر امت شاہ کی پہلی بار وضاحت –صحت وجوہات کی بنا پر دیا گیا استعفیٰ، افواہوں پر یقین نہ کریں

بھارت کے سابق نائب صدر جگدیپ دھنکڑ کے اچانک استعفیٰ پر جاری قیاس آرائیوں پر بالآخر وزیر داخلہ امت شاہ نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔ 25 اگست 2025 کو ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ دھنکڑ نے صرف صحت کی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے، اور ان کے “نظر بند” ہونے کی خبریں بے بنیاد اور سیاسی افواہوں پر مبنی ہیں۔

امت شاہ کا مؤقف: “استعفیٰ خود بولتا ہے“

ایک نجی نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں امت شاہ نے کہا:”دھنکڑ کا استعفیٰ خود میں واضح ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں صحت کی خرابی کو وجہ بتایا ہے اور اپنی شاندار مدتِ کار کے لیے وزیراعظم، وزراء اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔”

انہوں نے اس بات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کیا کہ جگدیپ دھنکڑ کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کی زبردستی یا خاموش کروانے کی کوشش کی گئی ہو۔

کیا دھنکڑ “نظر بند” تھے؟ امت شاہ کا جواب

اپوزیشن کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دھنکڑ کو خاموش کر دیا گیا ہے یا انہیں نظر بند رکھا گیا ہے۔ اس پر امت شاہ کا جواب تھا:”ایسا لگتا ہے کہ سچ اور جھوٹ کی تعریف اپوزیشن کے بیانات پر مبنی ہے۔ ہمیں اس معاملے پر تنازع پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ دھنکڑ صاحب نے آئینی ذمہ داریاں نبھائیں اور ذاتی وجوہات کی بنیاد پر استعفیٰ دیا۔”

اپوزیشن کی جانب سے سوالات اور الزامات

کانگریس جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ پہلی بار کسی نائب صدر کے استعفیٰ کو “خاموش کروا دیے جانے” سے جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔

راہل گاندھی نے بھی 20 اگست کو بیان دیا:”ہم ایک ایسے دور میں جا رہے ہیں جہاں راجہ اپنی مرضی سے کسی کو بھی ہٹا دیتا ہے۔ منتخب نمائندے کو ہٹانا معمول بن گیا ہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ:”کل ہی میں کسی سے بات کر رہا تھا کہ پرانے نائب صدر آخر کہاں گئے؟”

استعفیٰ کی اصل تاریخ

جگدیپ دھنکڑ نے 21 جولائی 2025 کو، مانسون اجلاس کے پہلے دن، صدر دروپدی مرمو کو اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔ خط میں انہوں نے لکھا کہ وہ اپنی صحت پر توجہ دینا چاہتے ہیں اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق آرام کریں گے۔اس کے بعد، راجیہ سبھا کی صدارت نائب چیئرمین ہری ونش نارائن نے سنبھالی۔

سیاسی بیان بازی یا اصل خدشات؟

دھنکڑ کے استعفیٰ کو لے کر اپوزیشن اسے محض “صحت کا بہانہ” نہیں مان رہی، بلکہ پس پردہ دباؤ یا اختلافات کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ تاہم، حکومت نے اب تک واضح مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ایک ذاتی اور طبی فیصلہ تھا، نہ کہ سیاسی دباؤ کا نتیجہ۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

40 minutes ago

Chandrashekhar Azad Attacks on Yogi Government: بہوجن سماج کے بچوں کو افسر نہیں، نشے کا عادی بنانا چاہتی ہے حکومت: چندر شیکھر آزاد

20 ہزار اسکول بند کیے گئے، جبکہ 20 ہزار سے زیادہ شراب کی دکانیں کھولی…

2 hours ago

PM Awas Yojna: جام نگر کے مستحقین نے کہا- پکے مکان کا خواب وزیر اعظم مودی نے کیا پورا

گجرات کے جام نگر میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد بتا رہے ہیں…

3 hours ago

Delhi Pollution: دہلی میں آلودگی کے خلاف پابندیاں: یکم نومبر سے ان گاڑیوں کے داخلے پر روک

سردیوں میں بڑھتی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے یکم نومبر سے دہلی…

3 hours ago