نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ہفتہ کو جموں میں بتایا کہ کانگریس نے اکتوبر-نومبر میں ممکنہ بہار اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ بلائی ہے۔ یہ میٹنگ 7 اگست کو دہلی میں ہوگی، جس میں اپوزیشن اتحاد ‘INDIA’ کے تمام رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ خود بھی اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔
راہل گاندھی کے ’ایٹم بم‘ والے دعوے پر تبصرہ
فاروق عبداللہ نے راہل گاندھی کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی کی جانب سے ’ووٹ چوری‘ کے جو ثبوت ان کے پاس ہیں، وہ ایٹم بم جیسے ہیں۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایسا انتظام کر لیا ہے کہ اب بہار کا الیکشن جیت لیا جائے گا۔ فاروق عبدالل نے کہا کہ وہ خود بھی اس معاملے کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں اور اسی لیے اس میٹنگ میں جا رہے ہیں۔
جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ پر اعتماد کا اظہار
فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر یقین ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر کو اس کا ریاستی درجہ ضرور واپس ملے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں اُس پر بھروسہ ہے جو سب کا مالک ہے۔ ہمیں اپنے حقوق ضرور ملیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل کانفرنس پہلے دن سے ہی اس مسئلے پر آواز بلند کرتی آ رہی ہے اور یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔
کانگریس کی بھوک ہڑتال سے علیحدگی کیوں؟
کانگریس نے 9 سے 21 اگست تک ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے، اور نیشنل کانفرنس اس کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس پر فاروق عبداللہ نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی پہلے سے ہی عوام کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی عمر عبداللہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملے، انہوں نے ریاستی درجہ کا مسئلہ ضرور اٹھایا۔ بات چیت کبھی رکی نہیں۔
مرکزی حکومت پر تنقید اور ناراضی کا اظہار
فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب مرکزی حکومت جموں و کشمیر کی خالی راجیہ سبھا کی چار اور اسمبلی کی دو سیٹوں پر بھی انتخابات نہیں کرا سکی، تو اس سے زیادہ امید رکھنا فضول ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ترقیاتی دعوؤں کو بھی مسترد کیا۔
ملکی معیشت پر تشویش
انہوں نے کہا، ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شور مچاتے رہتے ہیں کہ انہوں نے امن قائم کر دیا ہے۔ آج انہوں نے ہم پر 25 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے اور جرمانہ بھی لگایا ہے۔ ہماری تباہی کا سامان تیار کیا جا رہا ہے۔ ہمارے تمام صنعتکار بھاگ رہے ہیں، وہ اب دبئی سے کام کریں گے۔ ہمارے لوگ پہلے ہی بے روزگار ہیں اور یہاں بے روزگاری مزید بڑھے گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بھارت کو اب عالمی سطح پر نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ بنگلہ دیش اور کمبوڈیا جیسے چھوٹے ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پرگیہ ٹھاکر کے دعوے پر خاموشی
مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے سلسلے میں بی جے پی کی ایم پی پرگیہ ٹھاکر کے اس دعوے پر، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم کا نام لینے کے لیے ان پر دباؤ تھا، فاروق عبداللہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی مشکلات میں ہیں اور اس وقت کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…