سیاست

G20 Summit Delhi: جی-20 میں 15 سے زائد ممالک کے ساتھ دو طرفہ بات چیت، جانیں پی ایم مودی کا کیسا رہے گا شیڈول

G20 Summit Delhi: جی 20 سربراہی اجلاس میں دنیا بھر کے رہنماؤں کے استقبال کے لیے دارالحکومت دہلی کو سجا دیا گیا ہے۔ مختلف ممالک کے نمائندوں کے بھارت پہنچنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ امریکی صدر بھی آج دہلی پہنچیں گے اورآج شام کے ڈنر پر پی ایم مودی سے ملاقات کریں گے۔ یہ دو دن ہندوستان کے لیے بہت اہم ہونے والے ہیں۔ آج وزیر اعظم نریندر مودی عالمی رہنماؤں کے ساتھ 15 سے زیادہ دو طرفہ ملاقات کریں گے۔

آ ج کن ممالک کے ساتھ ہوگی پی ایم کی بات چیت

ذرائع کی مانیں تو آج 8 ستمبر کو پی ایم مودی ماریشس، بنگلہ دیش اور امریکہ کے لیڈروں کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ کریں گے۔ وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات میں مختلف ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔ کل یعنی 9 ستمبر کو جی 20 میٹنگ کے علاوہ وزیر اعظم برطانیہ، جاپان، جرمنی اور اٹلی کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے اور 10 ستمبر کو وزیر اعظم فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ لنچ میٹنگ کریں گے۔

پی ایم مودی کینیڈا کے ساتھ  ایک علیحدہ میٹنگ کریں گے۔کوموروس، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، جنوبی کوریا، یورپی یونین ،برازیل اورنائیجیریا کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ بھی پی ایم مودی کرنے والے ہیں ۔

کن اہم امور پر بات ہو سکتی ہے

عالمی رہنماؤں کے ساتھ پی ایم مودی کی ان ملاقاتوں میں امکان ہے کہ بات چیت اقتصادی ترقی، مالی استحکام اور ترقی کی ضروریات پر توجہ مرکوز کرے گی۔ کووڈ 19 کے بعد دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی ترقی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ بھارت بھی اس مسئلے سے  پریشان رہا ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ روس یوکرین جنگ پر بات چیت سے گریز کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس لئے  اقوام متحدہ  ایک صحیح جگہ ہے۔ وہیں تمام ممالک کو جی ٹوئنٹی میں بنائے   رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ہندوستان اس مدت کے دوران بہت سے مسائل اٹھا سکتا ہے۔جن میں افریقی یونین (اے یو) کے لیے جی ٹوئنٹی کی رکنیت کا امکان، عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات، آب و ہوا اور ماحولیات سے متعلق مسائل پر میٹنگ کے دوران تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔

الگ اللگ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مل کر لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات پر ہندوستان کی درآمدی پابندیاں اٹھا سکتے ہیں۔ یکم نومبر سے لاگو ہونے والی درآمدی پابندیوں نے خدشات کو جنم دیا ہے اور دونوں ممالک تجارتی تعلقات کو مزید خراب نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے ایک حل تلاش کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

9 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

10 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

10 hours ago

EC Fact-Checks Rahul Gandhi’s Claim: راہل گاندھی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا فیکٹ چیک، فارم-6 میں تبدیلی کے دعوے کو بتایا گمراہ کن، جانیں کیا کہا؟

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…

11 hours ago