امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے آغاز میں ہی دنیا بھر کے ممالک پر ٹیرف (محصولات) لگا دیے، جس پر خود امریکہ کے اندر شدید مخالفت سامنے آئی۔ امریکی اراکینِ کانگریس سے لے کر ماہرینِ معیشت تک نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو پاگل پن قرار دیا۔ اب اس پر امریکی عدالت نے بھی مہر لگا دی ہے۔ امریکہ کی اپیل کورٹ نے ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے زیادہ تر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یو ایس کورٹ آف اپیلز فار دی فیڈرل سرکٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر کو ایمرجنسی اختیارات دیے گئے ہیں، لیکن ان اختیارات میں ٹیرف یا ٹیکس لگانے کا حق شامل نہیں ہے۔
امریکی عدالت کے اس فیصلے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے، اگرچہ عدالت نے ٹیرف کو 14 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلے کو جانبدار قرار دیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ٹیرف نافذ رہیں گے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو نہ صرف غلط بلکہ مکمل طور پر جانبدار قرار دیا۔ ٹرمپ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ اسی طرح برقرار رہا، تو یہ امریکہ کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔
ٹرمپ کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان
اس موقع پر ٹرمپ نے سپریم کورٹ جانے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا:”ہم سپریم کورٹ جائیں گے تاکہ ہم ٹیرف کو اپنے قومی مفاد میں استعمال کر سکیں۔”
اس حوالے سے ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا:”آج اپیل کورٹ نے انتہائی جانبدارانہ انداز میں فیصلہ سنایا کہ ہمارے لگائے گئے تمام ٹیرف ختم کر دیے جائیں، لیکن یاد رکھیں آخر میں جیت امریکہ ہی کی ہوگی۔ اگر یہ ٹیرف کبھی ختم کیے گئے تو یہ امریکہ کے لیے ایک بڑی آفت سے کم نہیں ہوگا۔”
ٹیرف امریکہ کے مفاد میں ہیں
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں تجارتی خسارے اور دیگر ممالک کی جانب سے غیر منصفانہ ٹیرف کے نفاذ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ:”اب امریکہ غیر ملکی ممالک — چاہے وہ دوست ہوں یا دشمن — کی طرف سے لگائے گئے غیر منصفانہ ٹیرف کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔ اگر ہمارے ٹیرف ہٹا دیے گئے، تو یہ امریکہ کو برباد کر دے گا۔”
سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے ٹرمپ
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ اپیل کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا:”یہ ٹیرف نہ صرف ہمارے مزدوروں کی مدد کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ ‘میڈ ان امریکہ’ کے اعلیٰ معیار کی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں کی بھی پشت پناہی کرتے ہیں۔ لیکن اب ان کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ کئی سالوں تک ہمارے نادان لیڈروں نے ان قوانین کو ہمارے ہی خلاف استعمال ہونے دیا۔ اب ہم ان قوانین کو سپریم کورٹ لے جائیں گے اور ان کا استعمال اپنے قومی مفاد میں کریں گے۔ ہم ایک بار پھر امریکہ کو مضبوط اور طاقتور بنائیں گے۔”
بھارت ایکسپریس اردو
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…