قومی

Halal Certification Issue in UP: یوپی میں حلال سرٹیفکیشن سے متعلق مصنوعات کی فروخت پر پابندی لگانے کی تیاری میں یوگی حکومت

UP Halal Products: اترپردیش کی دارالحکومت لکھنؤ میں حلال پروڈکٹس سرٹیفکیشن معاملے میں سنگین دفعات اورالزامات میں ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔ حلال سرٹیفکیشن سے متعلق یوگی حکومت سخت ہوگئی ہے۔ حلال سرٹیفکیشن سے متعلق یوگی حکومت کئی کمپنیوں اوراداروں کے خلاف حضرت گنج میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ حضرت گنج کوتوالی میں حلال سرٹیفکیشن دے کرمصنوعات (پروڈکٹس) بیچنے والی کمپنیوں پرایف آئی آربھی درج ہوئی ہے۔

خبروں کے مطابق، شیلندرکمارشرما نامی شکایت کنندہ کی شکایت پرحضرت گنج کوتوالی میں معاملہ درج ہوا۔ حلال انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ چنئی، جمعیۃ علماء ہند حلال ٹرسٹ دہلی، حلال کاؤنسل آف انڈیا ممبئی، جمعیۃ علماء مہاراشٹرممبئی اور حلال سرٹیفکیشن دے کر سامان فروخت کرنے والی کئی کمپنیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔ آئی پی سی کی دفعہ 120 b/ 153A/ 298/ 384 /420 /467/ 468 /471/ 505 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کیا گیا یہ دعویٰ

ایف آئی آرمیں کہا گیا ہے کہ کچھ کمپنیوں کے ذریعہ جیسے حلال انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ چنئی، جمیعۃ علماء ہند حلال ٹرسٹ دہلی، حلال کاؤنسل آف انڈیا ممبئی، جمیعۃ علماء مہاراشٹرممبئی وغیرہ نے ایک مخصوص مذہب کے کسٹمرس (گراہکوں) کو مذہب کے نام سے کچھ مصنوعات پرحلال سرٹیفکیٹ فراہم کرکے ان کی فروخت میں اضافہ کرنے کے لئے اوراقتصادی فائدہ حاصل کر کے دھوکہ دیتے ہوئے حلال سرٹیفکیٹ مختلف پروڈکٹس کے لئے تقسیم کئے جا رہے ہیں۔

ایف آئی آرمیں لکھا گیا ہے کہ پوری ریاست کے بازاروں میں اس طرح کے پروڈکٹس دیکھے جاسکتے ہیں، جوسراسرعوامی عقیدت اوراعتماد کی خلاف ورزی ہے۔ مذکورہ کمپنیاں بغیرکسی اتھارٹی کے جعلی دستاویزات کے ذریعے حلال سرٹیفکیٹ جاری کرکے غیرقانونی منافع کما رہی ہیں۔ اس کے علاوہ عوام کے اعتماد سے بھی کھلواڑکیا جا رہا ہے۔ یہ کمپنیاں معاشرے کے ایک خاص طبقے کو متاثرکرنے کے لئے فراڈ کا استعمال کررہی ہیں اورمقررہ معیارات پربھی عمل نہیں کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  Atiq Ahmad-Ashraf Ahmad Murder Case: عتیق احمد-اشرف احمد کے قتل کے ملزمین کی جیل تبدیل، جانئے کیوں لیا فیصلہ

شیلندرکمارشرما کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آرمیں کہا گیا ہے کہ مجھے شبہ ہے کہ اس کا ناجائزفائدہ سماج دشمن/ملک دشمن عناصرتک پہنچایا جا رہا ہے۔ اس طرح ایک مخصوص کمیونٹی اوران کی مصنوعات کے خلاف سماج دشمن سازش رچی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ویج پروڈکٹ جیسے کاسمیٹکس، تیل، صابن، ٹوتھ پیسٹ، شہد وغیرہ کی فروخت کے لئے بھی حلال سرٹیفکیٹ دیا جا رہا ہے جبکہ ویج پروڈکٹ کے لئے ایسے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

  -بھارت ایکسپریس

Nisar Ahmad

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

57 minutes ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

2 hours ago

Manisha Koirala’s Message for Women: ’’بدلتے جسم سے لڑنے کے بجائے اسے سمجھیں…‘‘، منیشا کوئرالا کا خواتین کو خاص پیغام

منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…

2 hours ago