نئی دہلی: عالمی یوم کتاب اور کاپی رائٹ (ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے 2025) کے موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کی جانب سے ورلڈ ہیبی ٹیٹ،انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر، نئی دہلی میں مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔اس سیشن کے مذاکرہ کے موضوع “مصنوعی ذہانت کے دور میں کاپی رائٹ کے چیلنجز” کے مختلف پہلوؤں پر ماہرین نے تبادلہ خیال کیا ۔اس افتتاحی سیشن کی صدارت جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم نے کی۔ جبکہ تعارفی کلمات قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے پیش کیا۔ وہیں معروف وکیل، دانشور، مصنفہ اور شاعرہ دہلیا سین اوبرائے اور وانی پرکاشن گروپ کی سی ای او ادیتی مہیشوری نے کاپی رائٹ کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر پریم چند: مطالعے کی نئی جہتیں کا رسم اجراء عمل میں آیا اور مذاکرہ کیا گیا۔
کاپی رائٹ کی جانکاری کو پروفیسر افشار عالم نے بتایا وقت کی ضرورت
پروفیسر افشار عالم نے صدارتی خطاب میں آرٹی فیشیل انٹلی جنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹی فیشیل انٹلی جنس کے دور میں کاپی رائٹ کافی اہم موضوع ہے کیونکہ اصل رائٹر اور کاپی رائٹ کا مسئلہ بہت اہم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کے اس قدم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے کاپی رائٹ کے حوالے سے اردو والوں کو بہت فائدہ ہوگا اور آنے والے دنوں میں اس پر نئی بحث شروع ہوگی۔ پروفیسر افشار عالم نے بتایا کہ کاپی رائٹ کی وجہ سے کئی پروفیسروں کی نوکری تک چلی گئی ہے کیونکہ اب کاپی کرکے بچ پانا بہت مشکل ہے۔
ایڈوکیٹ دہلیا سین نے کا پی رائٹ 1957 کی دی جانکاری
دہلی ہائی کورٹ کی وکیل، مصنفہ اور شاعرہ ایڈوکیٹ دہلیا سین اوبرائے نے کاپی رائٹ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے یہ بتایا کہ کاپی رائٹ ایکٹ 1957 میں بنایا گیا اور یہ ایک اچھا قانون ہے۔ اس کے بارے میں ہمیں جانکاری نہیں ہے، لیکن اس سے متعلق بیداری اور جانکاری ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون میں کئی بار ترامیم کی گئی ہیں اور اس کو ضرورت کے مطابق مضبوط بنایا گیاہے۔ انہوں نے کاپی رائٹ کی مدت کے حوالے سے، کتابوں کے کاپی رائٹ سے متعلق اور اس کے کور پیج پر بھی رائٹر کے حقوق سے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی۔ ایڈوکیٹ دہلیا سین اوبرائے نے پبلشر، پرنٹر اور رائٹر کے حقوق سے روشناس کراتے ہوئے اس طرف توجہ دینے کی اپیل کی۔ وانی پرکاشن گروپ کی سی ای او ادیتی مہیشوری نے پبلیکیشن اور کاپی رائٹ سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔
دوسرے سیشن میں پریم چند: مطالعے کی نئی جہتیں پر مذاکرہ
دوسرے سیشن میں پریم چند: مطالعے کی نئی جہتیں کے عنوان سے مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیشن کی صدارت سپریم کورٹ کے سینئر وکیل، معروف ادیب اور عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین اے رحمن نے کی جبکہ مہمان اعزازی کے طور پر پروفیسر صغیر افراہیم نے شرکت کی۔ اس سیشن میں سابق صدر شعبہ اردو، ذاکر حسین دہلی کالج، پروفیسر شاہینہ تبسم، پروفیسر محمد کاظم (شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی) اور مترجم مصنف محمد صغیر نے مباحثہ میں حصہ لیا۔ تینوں مقررین نے پریم چند سے متعلق، ان کی کتابیں اور تصنیفات کے علاوہ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
بھارت ایکسپریس۔
جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…
الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…
راہل راج سنگھ کا شروع سے دعویٰ رہا ہے کہ وہ اور پرتیوشا دسمبر 2016…
گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…
بھارت نے سیریز کا پہلا میچ بھی 8 وکٹوں سے جیتا تھا۔ اب سیریز کا…
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…